Main Icon

باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5332

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ أَنَّهُ بَكَى، فَقِيلَ لَهُ: مَا يُبْكِيكَ؟ قَالَ:شَيءٌ سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَقُولُ فَذَكَرْتُهُ فَأَبْكَانِي، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَقُول: "أَتَخوَّفُ على أمتِي الشِّرْكَ وَالشَّهْوَةَ الْخَفِيَّةَ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَتُشْرِكُ أُمَّتُكَ مِنْ بَعْدِكَ؟ قَالَ: "نَعَمْ، أَمَا إِنَّهُمْ لَا يَعْبُدُونَ شَمْسًا وَلَا قَمَرًا وَلَا حَجَرًا وَلَا وَثَنًا، وَلَكِنْ يُرَاؤُونَ بِأَعْمَالِهِمْ، وَالشَّهْوَةُ الْخَفِيَّةُ أَنْ يُصْبِحَ أَحَدُهُمْ صَائِمًا، فَتَعْرِضُ لَهُ شَهْوَة مِنْ شَهَوَاتِهِ فَيَتْرُكُ صَوْمَهُ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".

وعنه أنه بكى، فقيل له: ما يبكيك؟ قال:شيء سمعت من رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول فذكرته فأبكاني، سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: "أتخوف على أمتي الشرك والشهوة الخفية"، قال: قلت: يا رسول الله! أتشرك أمتك من بعدك؟ قال: "نعم، أما إنهم لا يعبدون شمسا ولا قمرا ولا حجرا ولا وثنا، ولكن يراؤون بأعمالهم، والشهوة الخفية أن يصبح أحدهم صائما، فتعرض له شهوة من شهواته فيترك صومه". رواه أحمد والبيهقي في "شعب الإيمان".

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے کہ وہ روئے ان سے کہا گیا کہ آپ کو کیا چیز رلاتی ہے فرمایا وہ بات جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنی وہ مجھے یاد آگئی اس نے مجھے رلادیا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ میں اپنی امت پر شرک اور خفیہ شہوت کا خوف کرتا ہوں ۱؎فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اللہ کیا آپ کے بعد آپ کی امت شرک کرے گی فرمایا ہاں ۲؎خیال رہے کہ وہ لوگ نہ سورج کو پوچیں گی نہ چاند کو نہ پتھر کو نہ بت کو ۳؎لیکن ریاکاری کریں گے ۴؎خفیہ شہوت یہ ہے کہ ان میں سے ایک روزہ رکھے گا ۵؎پھر اس کے سامنے اس کی خواہشات میں سے کوئی خواہش آجاوے تو وہ اپنا روزہ چھوڑ دے ۶؎(احمد،بیہقی شعب الایمان)

شرح حدیث

۱∞؎اتخوفبنا ہےتخوفسے بمعنی بہت ہی ڈرنا۔خوف عام ہے معمولی ڈر ہو یا سخت ڈر،تخوفخاص ہے بہت ڈر،یاتخوفوہ خوف ہے جس کی علامات ظاہر ہوچکی ہوں،خوف میں یہ قید نہیں یعنی میں اپنی امت پر بہت ہی ڈرتا ہوں۔یا علامات ریا دیکھ کر ڈرتا ہوں۔اس فرمان عالی میںالخفیۃ شركاور شہوت دونوں کی صفت۔ معنی یہ ہے کہ میں اپنی امت پر خفیہ شرک اور خفیہ شہوت سے ڈرتا ہوں۔خفیہ وہ شرک وشہوت ہے جو مجاہدہ و ریاضت کرنے والوں پر بھی ظاہر نہ ہو،وہ حضرات بھی اس سے دھوکا کھا جاویں صرف قوت قدسیہ والے ہی اس کی خبر رکھ سکتے ہیں۔(مرقات)
۲
؎سائل کو شبہ یہ ہوا کہ امت محمدیہ تو امت مرحومہ ہے یہ کبھی نہ بگڑے گی اس لیے یہ سوال کیا ۔بعدكسے مراد حضرات صحابہ کرام نہیں بلکہ بعد کی نسلیں ہیں،حضرات صحابہ کے ایمان و اخلاص کی گواہی قرآن مجید و احادیث نبویہ میں دی ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَ اَلْزَمَہُمْ کَلِمَۃَ التَّقْوٰی وَ کَانُوۡۤا اَحَقَّ بِہَا وَ اَہۡلَہَا۳؎وثنہر بت کو کہتے ہیں جس کی پوجا کی جاوے خواہ چاند سورج ہو ، یا پتھر درخت وغیرہ یہاں خاص کے بعد عام کا ذکر ہے ۔
۴
؎اس کی تائید اس آیت کریمہ سے ہے"فَمَنۡ کَانَ یَرْجُوۡا لِقَآءَ رَبِّہٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صٰلِحًا وَّ لَا یُشْرِکْ بِعِبَادَۃِ رَبِّہٖۤ اَحَدًا"۔اس آیت میں شرک سے مراد یہ ہی ریا کاری ہے اسی کو حضور انور نے شرک فرمایا بالکل حق ہے۔
۵
؎یا تو روزہ رکھ لے گا یا رکھنے کی نیت کرے گا پہلے معنی زیادہ ظاہر ہیں جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔
۶
؎اس طرح کہ اس نے روزہ رکھ لیا ہوگا کوئی اچھے کھانے کی دعوت آگئی یا کسی نے شربت سوڈا پیش کیا تو اس کھانے شربت کی وجہ سے روزہ توڑ دیا یا روزہ کی نیت تھی کہ آج روزہ رکھوں گا مگر یہ چیزیں دیکھیں ارادہ بدل دیا محض نفسانی لذت و خواہش کے لیے کہ ایسا مزہ دار کھانا کون چھوڑے لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ حضور انور نے ازواج مطہرات سے پوچھا کہ کھانا ہے عرض کیا گیا ہاں،فرمایا لاؤ ہم نے تو آج روزہ رکھ لیا تھا پھر کھانا ملا حظہ فرمایا کہ افطا ر فرمالینا خواہش نفس کے لیے نہ تھا بلکہ حکم شرعی بیان کرنے کے لیے تھا کہ نفل روزہ رکھ کر توڑدینا جائز ہے اگرچہ قضا واجب ہوگی ۔ حضرت ام ہانی کو حضور انورنے اپنا پس خواہ پانی دیا آپ نے پی کر پوچھا کہ حضور میرا روزہ تھا فرمایاکوئی حرج نہیں،وہ روزہ توڑنا حضور کے تبرک سے برکت حاصل کرنے کے لیے تھا نہ کہ نفسانی خواہش سے لہذا احادیث سمجھ کر پڑھنا ضروری ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5332