Main Icon

باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5330

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ أَقْوَامٌ إِخْوَانُ الْعَلَانِيَةِ أَعْدَاءُ السَّرِيرَةِ"، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ يَكُونُ ذَلِكَ؟ قَالَ: "ذَلِكَ بِرَغْبَةِ بَعْضِهِمْ إِلَى بَعْضٍ وَرَهْبَةِ بَعْضِهِمْ مِنْ بَعْضٍ".

وعن معاذ بن جبل أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "يكون في آخر الزمان أقوام إخوان العلانية أعداء السريرة"، فقيل: يا رسول الله وكيف يكون ذلك؟ قال: "ذلك برغبة بعضهم إلى بعض ورهبة بعضهم من بعض".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ آخری زمانہ میں ایسی قومیں ہوں گی جو ظاہریت کی دوست ہوں گی اورپوشیدہ کی دشمن ۱؎تو عرض کیا گیا یا رسول اللہ یہ کیوں کر ہوگا فرمایا یہ انکے بعض کے بعض سے رغبت اور بعض کے بعض سے ڈرنے کی وجہ سے ہوگا ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی قریب قیامت ایسے لوگ ہوں گے جو اپنی نیکیاں علانیہ پسند کریں گے تاکہ لوگ ان کی واہ واہ کریں،تنہائی میں یا تو اعمال کریں گے ہی نہیں یا کریں گے تو معمولی طریقہ سے۔
۲
؎یعنی ان لوگوں کے دلوں میں اکا خوف اسے امید نہ ہوگی یا کم ہو گی،لوگوں کا خوف لوگوں سے امید ان پر غالب ہوگی۔ اس فرمان عالی میں علماء،عابدین، زاہدین ،سخی،مجاہد وغیر ہ سب ہی داخل ہیں،ہر عمل اخلاص سے قبول ہوتا ہے۔ یہاں اشعۃ اللمعات میں ہے کہ اس میں وہ بھی داخل ہیں جو لوگوں سے ظاہری محبت کریں وہ بھی غرض کے لیے جب غرض نکل جاوے دوستی بھی ختم ہوجاوے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5330