Main Icon

باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5337

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "إِنَّمَا أَخَافُ عَلَى هَذِهِ الأُمَّةِ كُلَّ مُنَافِقٍ يَتَكَلَّمُ بِالْحِكْمَةِ وَيَعْمَلُ بِالْجَوْرِ". رَوَى الْبَيْهَقِيُّ الأَحَادِيثَ الثَّلَاثَةَ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".

وعن عمر بن الخطاب عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "إنما أخاف على هذه الأمة كل منافق يتكلم بالحكمة ويعمل بالجور". روى البيهقي الأحاديث الثلاثة في "شعب الإيمان".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا میں اس امت پر ہر اس منافق سے ڈرتا ہوں جو باتیں حکمت کی کرے گا اور عمل ظلم کے ۱؎ان تینوں حدیثوں کو بیہقی نے شعب الایمان میں روایت فرمایا۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی قیامت تک میری امت میں ایسے لوگ پیدا ہوتے رہیں گے جن کے قول اور قسم کے ہوں گے عمل اور طرح کے،قول نہایت ہی اچھے ہوں گے عمل نہایت برے،لوگ ان کی خوش گفتاری سے دھوکا کھا کر ان کے جال میں پھنس جایا کریں گے۔چونکہ ان کے قول و فعل میں مطابقت نہ ہوگی اس لیے انہیں منافق فرمایا یعنی منافق عملی، رب تعالٰی ہمارا علماء و واعظین کو ہم سب کو نیک اعمال کی توفیق دے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5337