Main Icon

باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5319

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَقُولُ: "مَنْ سَمَّعَ النَّاسَ بِعَمَلِهِ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ أَسَامِعَ خَلْقِهِ، وَحَقَّرَهُ وَصَغَّرَهُ". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".

وعن عبد الله بن عمرو أنه سمع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: "من سمع الناس بعمله سمع الله به أسامع خلقه، وحقره وصغره". رواه البيهقي في "شعب الإيمان".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداابن عمرو سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جو اپنے عمل لوگوں کو سنائے تو ااپنی مخلوق کی کانوں کو سنادے گا اور اسے حقیر ذلیل اور جھوٹا کردے گا ۱؎(بیہقی شعب الایمان)

شرح حدیث

۱∞؎یہ حدیث گزشتہ حدیث کی شرح ہے۔اس فرمان عالی کے دو مطلب ہوسکتے ہیں: ایک یہ ریاکار کی عبادات قیامت میں مشہور تو کی جائے گی مگر اس طرح کہ اس شہرت سے اس کی عزت نہ ہوگی،بلکہ ذلت و رسوائی ہوگی مثلًا پکارا جاوے گا کہ فلاں ریاکار نے دکھلاوے کے لیے اتنی نمازیں پڑھیں،اتنے صدقات دیئے،اتنے حج کیے یہ شخص بڑا خبیث ہے وغیرہ وغیرہ۔ دوسرے یہ کہ دنیا میں ریاکار شہرت پسند آدمی کے عیوب شائع ہوجاتے ہیں جس سے وہ بجائے نیک نام ہونے کے بدنام ہوجاتا ہے یعنی اس کی عبادات تو مشہور نہیں ہوتیں اس کے خفیہ گناہ مشہور ہوجاتے ہیں۔خدا کی پناہ! یہ بھی مجرب ہے اللہ تعالٰی اخلاص نصیب کرے۔ریاء کے نیک اعمال بھی مشہور ہوتے ہیں تو بدنامی کے ساتھ جیساکہ پہلے عرض کیا گیا۔اسامعجمع ہےاسمعکی(میم کے پیش سے)جیسےاکالبجمع ہےاکلبکیاسمعکے معنی ہیں سننے کی جگہ یعنی کان۔(اشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5319