Main Icon

باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5320

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "مَنْ كَانَتْ نِيَّتُهُ طَلَبَ الآخِرَةِ جَعَلَ اللَّهُ غِنَاهُ فِي قَلْبِهِ، وَجَمَعَ لَهُ شَمْلَهُ، وَأَتَتْهُ الدُّنْيَا وَهِيَ رَاغِمَةٌ، وَمَنْ كَانَتْ نِيَّتُهُ طَلَبَ الدُّنْيَا جَعَلَ اللَّهُ الْفَقْرَ بَيْنَ عَيْنَيْهِ، وَشَتَّتَ عَلَيْهِ أَمْرَهُ، وَلَا يَأْتِيهِ مِنْهَا إِلَّا مَا كُتِبَ لَهُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيِّ.

وعن أنس أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "من كانت نيته طلب الآخرة جعل الله غناه في قلبه، وجمع له شمله، وأتته الدنيا وهي راغمة، ومن كانت نيته طلب الدنيا جعل الله الفقر بين عينيه، وشتت عليه أمره، ولا يأتيه منها إلا ما كتب له". رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جس کی نیت آخرت کمانا ہو تو اللہ اس کی غنا اس کے دل میں ڈال دے گا اور اس کی متفرقات کو جمع کردے گا ۱؎اور اس کے پاس دنیا ذلیل ہوکر آوے گی ۲؎اور جس کی نیت دنیا طلبی ہو تو اللہ فقیری اس کے آنکھوں کے سامنے کردے گا ۳؎اور اس پر اس کے کام پر اگندہ کردے گا ۴؎اور اس کے پاس آئے گی اتنی جتنی اس کے لیے لکھی گئی ۵؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎شملجمع ہےشملۃکی بمعنی حاجت یا عادت یعنی اخلاص والے کو رب تعالٰی دلی استغناء بھی بخشتا ہے اوراس کی متفرق حاجتیں یکجا جمع بھی فرمادیتا ہے کہ گھر بیٹھے اس کی ساری ضرورتیں پوری ہوتی رہتی ہیں،ضرورتوں کے پاس وہ نہیں جاتا ضروریات اس کے پاس آتی ہیں۔جو اکا ہوجاتا ہے ااس کا ہوجاتا ہے۔جس جانور کو کیلے سے باندھ دیتے ہیں اس کی ہر ضرورت وہاں ہی پہنچ جاتی ہے؎وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے ہزارسجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات
۲
؎دنیا سے مراد دنیاوی نعمتیں بھی ہیں اور دنیا کے لوگ بھی یعنی دنیا اور دنیا دار اس کے پاس خادم بن کر حاضر ی دیتے ہیں جیساکہ اولیاء اکے آستانوں پر دیکھا جارہا ہے۔شعر
ان کے در کا جو ہوا خلق خدا اس کی ہوئی ان کے در سے جو پھرا ا
اس سے پھر گیا
۳
؎فقیری سے مراد ہے لوگوں کی محتاجی،ان کا حاجت مند رہنا ہے،ان کے دروازوں پر دھکے کھانا،انکی خوشامدیں کرنا۔
۴
؎یعنی اس کا دل پریشان رہے کبھی روٹی کے پیچھے دوڑے گا،کبھی کپڑے کی فکر میں مارا مارا پھرے گا،کبھی دیگر ضروریات کے لیے پریشان پھرے گا،اللہ اللہ کرنے کا وقت ہی نہ پائے گا یہ بھی تجربہ سے ثابت ہے۔
۵
؎یعنی اس کی ایسی دوڑ دھوپ سے اس کی دنیا میں اضافہ نہ ہوگا بلکہ اس کی پریشانیوں میں ہی اضافہ ہوگا،دنیا اتنی ہی ملے گی جتنی مقدر میں ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5320