Main Icon

باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5335

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "لَوْ أَنَّ رَجُلًا عَمِلَ عَمَلًا فِي صَخْرَةٍ لَا بَابَ لَهَا وَلَا كَوَّةَ خَرَجَ عَمَلُهُ إِلى النَّاسِ كَائِنًا مَا كَانَ ".

وعن أبي سعيد الخدري قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "لو أن رجلا عمل عملا في صخرة لا باب لها ولا كوة خرج عمله إلى الناس كائنا ما كان ".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اگر کوئی شخص پتھر کی چٹان میں بیٹھ کر عمل کرے جس کا کوئی نہ دروازہ ہو نہ روزن ۱؎تو بھی اس کا عمل لوگوں تک نکل آوے گا جو عمل بھی ہوگا ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی فرض کرو کہ کوئی شخص ایسے بندغار میں نیکی کرے جس میں نہ تو دروازہ ہو کہ کوئی وہاں پہنچ سکے،نہ کوئی روزن و سوراخ ہو جس سے کوئی وہاں جھانک سکے،مطلب یہ ہے کہ کیسے ہی خلوت خانہ میں کیسے ہی چھپ کر عبادت کرے۔
۲
؎اس فرمان عالی کا مقصد یہ ہے کہ تم ریا کرکے اپنے ثواب کیوں برباد کرتے ہو،تم اخلاص سے نیکیاں کرو خفیہ کرو اتعالٰی تمہاری نیکیاں خود بخود لوگوں کو بتادے گا،لوگوں کے دل تمہیں نیک ماننے لگیں گے یہ نہایت ہی مجرب ہے۔بعض لوگ خفیہ تہجد پڑھتے ہیں لوگ خواہ مخواہ انہیں تہجد خواں کہنے لگتے ہیں،تہجد بلکہ ہر نیکی کا نور چہرے پر نمودار ہوجاتا ہے جس کا دن رات مشاہدہ ہورہا ہے،لوگ خواہ مخواہ حضور غوث پاک،خواجہ اجمیری کو ولی کہتے ہیں کیونکہ رب تعالٰی کہلوارہا ہے یہ ہے اس فرمان عالی کا ظہور۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5335