Main Icon

باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5024

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَوْ أَنَّ عَبْدَيْنِ تَحَابَّا فِي اللّٰهِ عَزَّ وَجَلَّ وَاحِدٌ فِي الْمَشْرِقِ وَآخَرُ فِي الْمَغْرِبِ لَجَمَعَ اللّٰهُ بَيْنَهُمَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ. يَقُولُ: هٰذَا الَّذِي كُنْتَ تُحِبُّهٗ فِيَّ "

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لو أن عبدين تحابا في الله عز وجل واحد في المشرق وآخر في المغرب لجمع الله بينهما يوم القيامة. يقول: هذا الذي كنت تحبه في "

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اگر دو شخص الله عزجل کی راہ میں محبت کریں اور ان میں سے ایک مشرق میں ہو دوسرا مغرب میں تو الله تعالٰی انہیں قیامت کے دن جمع فرمادے گا فرمائے گا ۱∞؎یہ وہ ہے جس سے تو میری راہ میں محبت کرتا تھا ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎ہم مہجورین مشرق میں ہیں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم مغرب میں الله تعالٰی حضور کا عشق دے توان شاءاللهجنت بلکہ قیامت میں بھی حضور کا قرب نصیب ہوگا،آخرت کا قرب و بعد دنیا کے قلبی قرب وبعد کا نتیجہ ہوگا دعا ہے کہ مولیٰ۔شعر
زمانہ کی خوبی زمانہ کودے مجھے تیرے پیارے کا در چاہیے
بعض بدنصیب مدینہ میں رہ کر حضور سے دور ہیں بعض خوش نصیب مدینہ سے دور رہ کر بھی در حضور میں ہیں۔
۲
؎یہ ان محب و محبوبین کو قیامت اور جنت میں جمع فرما دینا اتفاقًا نہ ہوگا بلکہ یہ بتاکر جتاکر ہوگا کہ یہ قرب تیری اس محبت کا نتیجہ ہے۔معلوم ہوا کہ سارے اعمال سے زیادہ پیارا عمل محبوبوں سے محبت ہے کہ یہ ان کے قرب کا ذریعہ ہے۔خیال رہے کہ حضور سے محبت کی علامت یہ ہے کہ ان کے احکام،ان کے اعمال،ان کی سنتوں سے،ان کے قرآن،ان کے فرمان، ان کے مدینہ کی خاک سے محبت ہو،بے نماز بے روزہ بھنگی چرسی دعویٰ عشق رسول کریں جھوٹے ہیں محبت کی علامت اطاعت ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5024