Main Icon

باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5010

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي مُوسٰى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ وَالسَّوْءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيرِ فَحَامِلُ الْمِسْكِ إِمَّا أَنْ يُحْذِيَكَ وَإِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ وإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيحًا طَيِّبَةً وَنَافِخُ الْكِيرِ إِمَّا أَنْ يُحْرِقَ ثِيَابَكَ وإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رَيْحًا خَبِيْثَةً . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي موسى قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: مثل الجليس الصالح والسوء كحامل المسك ونافخ الكير فحامل المسك إما أن يحذيك وإما أن تبتاع منه وإما أن تجد منه ريحا طيبة ونافخ الكير إما أن يحرق ثيابك وإما أن تجد منه ريحا خبيثة . (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اچھے برے ساتھی کی مثال مشک کے اٹھانے اور بھٹی دھونکنے والے کی سی ہے ۱∞؎مشک بردار یا تمہیں کچھ دے دے گا یا تم اس سے خرید لو گے اور یا تم اس سے اچھی خوشبو پالو گے۲؎اور بھٹی دھونکنے والا یا تمہارے کپڑے جلادے گا اور یا تم اس سے بدبو پاؤ گے ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎سبحان الله!کیسی پاکیزہ مثال ہے جس کے ذریعہ سمجھایا گیا ہے کہ بروں کی صحبت فائدہ اور اچھوں کی صحبت نقصان کبھی نہیں دے سکتی،بھٹی والے سے مشک نہیں ملے گا گرمی اور دھواں ہی ملے گا،مشک والے سے نہ گرمی ملے نہ دھواں مشک یا خوشبو ہی ملے گی۔
۲
؎یہ ادنی نفع کا ذکر ہے مشک خرید لینا یا اس کا مفت ہی دے دینا اعلیٰ نفع ہے جس سے ہمیشہ فائدہ پہنچتا رہے گا اور صرف خوشبو پالینا ادنی نفع ہے۔خیال رہے کہ ابوجہل وغیرہ دشمنان رسول حضور کے پاس حاضر ہوئے ہی نہیں وہاں حاضری محبت سے حاصل ہوتی ہے۔
۳
؎اس فرمان عالی کا مقصد یہ ہے کہ حتی الامکان بری صحبت سے بچو کہ یہ دین و دنیا برباد کردیتی ہے اور اچھی صحبت اختیار کرو کہ اس سے دین و دنیا سنبھل جاتے ہیں۔سانپ کی صحبت جان لیتی ہے،برے یار کی صحبت ایمان برباد کردیتی ہے۔
مار بد تنہا ہمیں برجاں زند یار بد بر دین و بر ایمان زند
صوفیاءکرام کے نزدیک ساری عبادات سے افضل صحبت نیک ہے آج مسلمان نمازی،غازی،حاجی،قاضی بنتے رہتے ہیں مگر صحابی نہیں بنتے کہ صحابی صحبت نبی سے بنتے تھے وہ صحبت اب کہاں نصیب۔حضور سب کچھ دے گئے مگرصحبت ساتھ ہی لے گئے صلی الله علیہ وسلم۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5010