Main Icon

باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5019

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمَرْءُ عَلٰى دِينِ خَلِيلِهٖ فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ مَنْ يُخَالِلْ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيْبٌ. وَقَالَ النَّوَوِيُّ: إِسْنَادُهٗ صَحِيْحٌ

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: المرء على دين خليله فلينظر أحدكم من يخالل . رواه أحمد والترمذي وأبوداود والبيهقي في شعب الإيمان وقال الترمذي : هذا حديث حسن غريب. وقال النووي: إسناده صحيح

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ انسان اپنے دوست کے طریقہ پر ہوتا ہے ۱∞؎تو ہر ایک سوچ لے کہ کس سے محبت کرتا ہے ۲؎(احمد، ترمذی،ابوداؤد،بیہقی شعب الایمان)اور ترمذی نے فرمایا حدیث حسن غریب ہے،نووی نے کہا کہ اس کی اسناد صحیح ہے ۳؎

شرح حدیث

۱∞؎دین سے مراد یا تو ملت و مذہب ہے یا سیرت و اخلاق،دوسرے معنی زیادہ ظاہر ہیں یعنی عمومًا انسان اپنے دوست کی سیرت و اخلاق اختیار کرلیتا ہے کبھی اس کا مذہب بھی اختیار کرلیتا ہے لہذا اچھوں سے دوستی رکھو تاکہ تم بھی اچھے بن جاؤ۔صوفیاء فرماتے ہیںلاتصاحب الا مطیعا ولا تخالل الا تقیانہ ساتھ رہو مگر الله رسول کی فرمانبرداری کرنے والے کے نہ دوستی کرو مگر متقی سے۔
۲
؎یعنی کسی سے دوستانہ کرنے سے پہلے اسے جانچ لو کہ الله رسول کا مطیع ہے یا نہیں،رب تعالٰی فرماتاہے: "وَکُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰدِقِیۡنَ"۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ انسانی طبیعت میںاخذیعنی لے لینے کی خاصیت سے،حریص کی صحبت سے حرص،زاہد کی صحبت سے زہد و تقویٰ ملے گا۔خیال رہے کہ خلت دلی دوستی کو کہتے ہیں جس سے محبت دل میں داخل ہوجاوے۔یہ ذکر دوستی و محبت کا ہے کسی فاسق و فاجر کو اپنے پاس بٹھا کر متقی بنا دینا تبلیغ ہے،حضور انور نے گنہگاروں کو اپنے پاس بلاکر متقیوں کا سردار بنادیا۔
۳
؎اس میں ان لوگوں کا رد ہے جو اس حدیث کو موضوع کہتے ہیں جیسے حافظ سراج الدین قزوینی، حافظ ابن حجر نے قزوینی کا بہت رد کیا اور حدیث کا صحیح ہونا ثابت کیا۔(مرقات و اشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5019