Main Icon

باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5012

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللّٰهِ لَأُنَاسًا مَا هُمْ بِأَنْبِيَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ يَغْبِطُهُمُ الأَنْبِيَاءُ وَالشُّهَدَاءُ يَوْمَ القِيَامَةِ بِمَكَانِهِمْ مِنَ اللّٰهِ . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ تُخْبِرُنَا مَنْ هُمْ؟ قَالَ: هُمْ قَوْمٌ تَحَابُّوا بِرُوحِ اللّٰهِ عَلٰى غَيْرِ أَرْحَامٍ بَيْنَهُمْ وَلَا أَمْوَالٍ يَتَعَاطَوْنَهَا فَوَاللّٰهِ إِنَّ وُجُوهَهُمْ لَنُورٌ وَإِنَّهُمْ لَعَلٰى نُورٍ لَا يَخَافُونَ إِذَا خَافَ النَّاسُ وَلَا يَحْزَنُونَ إِذَا حَزِنَ النَّاسُ وَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ: (أَلَا إِنَّ أَوْلِيَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ) رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن من عباد الله لأناسا ما هم بأنبياء ولا شهداء يغبطهم الأنبياء والشهداء يوم القيامة بمكانهم من الله . قالوا: يا رسول الله تخبرنا من هم؟ قال: هم قوم تحابوا بروح الله على غير أرحام بينهم ولا أموال يتعاطونها فوالله إن وجوههم لنور وإنهم لعلى نور لا يخافون إذا خاف الناس ولا يحزنون إذا حزن الناس وقرأ هذه الآية: (ألا إن أولياء الله لا خوف عليهم ولا هم يحزنون) رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ الله کے بعض بندے وہ ہیں ۱∞؎جو نہ تو نبی ہیں نہ شہید ان پر حضرات انبیاء شہداء قیامت کے دن رشک کریں گے ان کے قربِ الٰہی کی وجہ سے ۲؎لوگ بولے یارسول الله ہمیں خبر دیں کہ وہ کون لوگ ہیں فرمایا وہ وہ قوم ہے جو الله کے قرآن کی وجہ سے۳؎ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں بغیر آپس کی قرابت داری کے اور بغیر آپس کی مالی لین دین کے ۴؎تو الله کی قسم ان کے چہرے نور ہوں گے اور وہ نور پر ہوں گے ۵؎جب لوگ ڈریں گے یہ نہ ڈریں گے اور جب لوگ غمگین ہوں گے تو یہ غمگین نہ ہوں گے ۶؎اوریہ آیت تلاوت فرمائی خبردار رہو بے شک الله کے ولی نہ ان پر ڈر ہے نہ وہ غمگین ہوں ۷؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎اناسجمع فرماکر یہ بتایا کہ یہ حضرات انسان ہیں اور وہ ایک دو نہیں بلکہ پوری جماعت ہے یہ اولیاء الله ہیں اور ایسے لوگ ہمیشہ رہیں گے۔
۲
؎اس فرمان عالی کا مطلب ابھی عرض کردیا گیا کہ ان حضرات کے قربِ الٰہی کی انبیاء کرام شہداء عظام تعریف کریں گے یا ان کی بے غمی بے فکری پر رشک کریں گے۔قیامت میں گنہگاروں کو اپنی حضرات انبیاء کرام کو اپنی امت کی فکر بھی ہوگی غم بھی مگر یہ حضرات اپنے اور دوسروں کے غم و فکر سے آزاد ہوں گے اس آزادی پر حضرات انبیاء رشک کریں گے لہذا اس سے یہ لازم نہیں کہ یہ لوگ انبیاءکرام سے افضل ہوں، رب تعالٰی فرماتاہے:"اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَاخَوْفٌ عَلَیۡہِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوۡنَ"یہاںاولیاءاللهفرمایا گیا انبیاء نہ ارشاد ہوا۔
۳
؎قوی یہ ہے کہ روح الله ر کے ضمہ سے ہے بمعنی زندگی بخش چیز اور اس سے مراد قرآن کریم ہے کہ یہ بھی مسلمانوں کو جاودانی زندگی بخشتا ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"اَوْحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا"اس کی اور بھی شرحیں کی گئی ہیں یعنی قرآن مجید کی اتباع اس کے احکام کی پابندی کی وجہ سے محبت کرتے ہیں کہ یہ لوگ پکے مسلمان ہیں۔
۴
؎یعنی ان کی اس محبت کی وجہ آپس کی قرابتداری اور مالی لین دین نہیں ہوتی،صرف اس لیے محبت کرتے ہیں کہ وہ الله کا مقبول بندہ ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مطیع فرمان ہے خواہ اپنا عزیز ہو یا اجنبی لہذا حدیث واضح ہے،اس کا یہ مطلب نہیں کہللهفی اللہ محبت صرف اجنبی سے ہی چاہیے اپنے عزیز و قرابت داروں سے نہ چاہیے اگرچہ وہ کیسا ہی نیک و صالح ہو، چونکہ دنیاوی محبتیں اکثر نسب اور مالی تعلق کی بنا پر ہوتی ہیں اس لیے ان ہی دو چیزوں کا ذکر فرمایا گیا طمع لالچ مال کی زیادتی ہوتی ہے۔
۵
؎یعنی ان کے چہرے نورانی ہوں گے اور وہ نور کے ممبروں پر ہوں گے جیسے دنیا کی مجلسوں میں معزز آدمی کو عزت کی جگہ بٹھایا جاتا ہے ایسے انہیں رب تعالٰی قیامت میں عزت کی جگہ عطا فرمائے گا تاکہ اہلِ محشر پر ان کی عظمت ظاہر ہو۔
۶
؎اس ارشاد عالی نے حضرات انبیاء کے رشک کی وجہ بیان فرمادی کہ یہ لوگ اس دن اپنی اور دوسروں کی فکروں سے آزاد ہوں گے اس بے فکری اور آزادی پر رشک کیا جاوے گا انہیں نہ اپنے بخشے جانے کی فکر کہ وہ بخش دیئے گئے نہ دوسروں کو بخشوانے کی فکر کہ وہ کسی کے ذمہ دار نہیں لہذا حدیث بالکل واضح ہوگئی۔
۷
؎یا تو حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی اپنے فرمان عالی کی تائید کے لیے یا حضرت عمر رضی الله عنہ نے تلاوت کی حدیث کی تقویت کے لیے۔خیال رہے کہ ضعیف سے ضعیف حدیث بھی اگر قرآنی آیت سے قوت پائے تو صحیح ہوجاتی ہے یعنی ان لوگوں کو نہ عذاب کا خوف ہوگا نہ ثواب جاتے رہنے کا غم۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5012