Main Icon

باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5015

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا عَادَ الْمُسْلِمُ أَخَاهُ أَوْ زَارَهٗ قَالَ اللّٰهُ تَعَالٰى: طِبْتَ وَطَابَ مَمْشَاكَ وَتَبَوَّأْتَ مِنَ الْجَنَّةِ مَنْزِلًا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

وعن أبي هريرة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " إذا عاد المسلم أخاه أو زاره قال الله تعالى: طبت وطاب ممشاك وتبوأت من الجنة منزلا". رواه الترمذي وقال: هذا حديث غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب مسلمان اپنے مسلمان بھائی کی بیمار پرسی یا ملاقات کرتا ہے ۱∞؎تو رب تعالٰی فرماتا ہے کہ تو اچھا تیرا چلنا اچھا اور تو نے جنت میں منزل یعنی گھر بنالیا ۲؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎ظاہر یہ ہے کہاوزارہبھی حضور کا فرمان عالی ہے یعنی اس سے بیماری میں ملاقات کرے یا تندرستی میں ملے دونوں کا درجہ یہی ہے،عیادت اور زیارت میں یہ ہی فرق ہے اور ہوسکتا ہے کہ راوی کو شک ہوا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نےعادفرمایا یازارمگر پہلی بات قوی ہے۔
۲
؎جنت کی بعض زمین سفیدہ بھی ہے جس میں مؤمنوں کے اعمال کے بعد باغ یا مکانات تیار ہوتے ہیں اور بعض زمین میں تمام چیزیں پہلے ہی موجود ہیں جہاں کسی جنت میں گھر بنانے یا مکان بنانے کا ذکر ہوتا ہے وہاں اس زمین میں بنانا مراد ہوتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5015