Main Icon

باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5020

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ نُعَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا آخَى الرَّجُلُ الرَّجُلَ فَلْيَسْأَلْهُ عَنِ اسْمِهٖ وَاسْمِ أَبِيْهِ وَمِمَّنْ هُوَ؟ فَإِنَّهٗ أَوْصَلُ لِلْمَوَدَّةِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن يزيد بن نعامة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا آخى الرجل الرجل فليسأله عن اسمه واسم أبيه وممن هو؟ فإنه أوصل للمودة . رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت یزید ابن نعامہ سے ۱∞؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب کوئی شخص کسی سے بھائی چارہ کرے ۲؎تو اس سے اس کا نام اس کے باپ کا نام پوچھ لے اور یہ کہ وہ کس قبیلہ سے ہے کہ یہ تحقیقات دوستی کو مضبوطی دینے والی ہے ۳؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یہ جنگ حنین میں مشرکوں کے ساتھ تھے بعد میں اسلام لائے ان کی صحابیت میں اختلاف ہے ۔جامع اصول میں انہیں صحابی کہا،ابو حاتم نے کہا کہ بصری ہیں اور تابعی ہیں۔(اشعہ)ممکن ہے انہوں نے یہ حدیث حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بحالت کفر سنی ہو اور مسلمان ہوجانے کے بعد روایت کی ہو کہ ایسی روایت معتبر ہے۔ (مرقات)اور اگر تابعی ہو تو تابعی کی مرسل حدیث صحیح ہے جب کہ وہ ثقہ ہوں۔
۲
؎یعنی اسے دینی بھائی بنائے اس سے میل جول پیدا کرنا چاہیے۔
۳
؎بارہا ایسا ہوتا ہے کہ کسی کو عالی خاندان سمجھ کر اس سے محبت کی بعد میں اس کے خلاف ظاہر ہوا تو نفرت ہوگئی اس لیے پہلے سے ہی سارے انتظامات کرے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5020