Main Icon

باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5021

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:أَتَدْرُونَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللّٰهِ تَعَالٰى؟ قَالَ قَائِلٌ: الصَّلَاةُ وَالزَّكَاةُ. وَقَالَ قَائِلٌ: الْجِهَادُ. قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَحَبَّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللّٰهِ تَعَالَى الحُبُّ فِي اللّٰهِ وَالْبُغْضُ فِي اللّٰهِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرَوٰى أَبُوْدَاوُدَ الْفَصْلَ الْأَخِيْرَ

عن أبي ذر قال: خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:أتدرون أي الأعمال أحب إلى الله تعالى؟ قال قائل: الصلاة والزكاة. وقال قائل: الجهاد. قال النبي صلى الله عليه وسلم: إن أحب الأعمال إلى الله تعالى الحب في الله والبغض في الله . رواه أحمد وروى أبوداود الفصل الأخير

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں ہمارے پاس رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیے ۱∞؎فرمایا کہ تم جانتے ہو کہ کون سا عمل الله تعالٰی کو زیادہ پسند ہے ۲؎کسی کہنے والے نے کہا کہ نماز اور زکوۃ اور کسی کہنے والے نے کہا جہاد۳؎نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ الله تعالٰی کو بہت پیاراعمل الله کی راہ میں محبت اور الله کی راہ میں عداوت ہے ۴؎(احمد)اور ابوداؤد نے آخری حصہ روایت کیا ۵؎

شرح حدیث

۱∞؎اس طرح کہ ہم لوگ مسجد مبارک میں تھے حضور انور حجرہ مقدسہ میں،اچانک حجرہ اقدس سے مسجد میں ہمارے پاس تشریف لائے۔(مرقات)غالبًا یہ تشریف آوری نماز کے لیے نہ تھی بلکہ ان حضرات کو شرف ملاقات بخشنے کے لیے اس لیےعلینافرمایا۔
۲
؎احبفرمایاافضلنہ فرمایا اس لیے کہ افضلیت لازم نہیں،دیکھو حضرت علی مرتضی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو محبوب ترین ہیں مگر حضرات شیخین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے افضل ہیں۔(مرقات)اس بنا پر حدیث شریف بالکل واضح ہے۔
۳
؎ان حضرات نے افضلیت اور احبیت میں فرق نہ فرمایا،چونکہ نماز یا زکوۃ یا جہاد افضل اعمال ہیں اس لیے ان لوگوں نے یہ جواب دیا یہاں واؤ بمعنیاوہے۔خیال رہے کہ عمومًا نماز تمام اعمال سے افضل ہے بعض ہنگامی حالات میں جہاد نماز سے افضل ہوتا ہے۔
۴
؎حقیقت یہ ہے کہ نماز،زکوۃ،جہاد بھیالحب فی اللهکی شاخیں ہیں کہ مسلمان ان اعمال سے الله کے لیے محبت کرتا ہے اور تمام گناہوں سے نفرتالبغض فی اللهکی شاخیں ہیں کہ مؤمن تمام گناہوں سے الله تعالٰی کے لیے نفرت کرتا ہے،یوں ہی نمازیوں عابدوں سے محبت الله کے لیے ہے کفار اور فساق سے نفرت الله کے لیے،نیز کل قیامت میں جس عمل پر حضرات انبیاء و شہداء غبطہ کریں گے وہ یہ ہی الله کے لیے محبت الله کے لیے عداوت ہے لہذا اس عمل کا محبوب ترین ہونا بالکل درست دوسری عبادات اگرچہ افضل ہوں مگر یہ عمل ان عبادات کا ذریعہ ہے لہذا یہ رب تعالٰی کو بڑا پیارا ہے۔
۵
؎یعنی انہوں نے حضور انور کا تشریف لانا یہ سوال فرمانا حضرات صحابہ کا مذکورہ جواب دینا اس کا ذکر نہ کیا احب الاعمال سے روایت فرمائی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5021