Main Icon

باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5017

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: مَرَّ رَجُلٌ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهٗ نَاسٌ. فَقَالَ رَجُلٌ مِمَّنْ عِنْدَهٗ: إِنِّيْ لَأُحِبُّ هٰذَا لِلّٰهِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَعْلَمْتَهُ؟ قَالَ: لَا. قَالَ: قُمْ إِلَيْهِ فَأَعْلِمْهُ . فَقَامَ إِلَيْهِ فَأَعْلَمَهٗ فَقَالَ: أَحَبَّكَ الَّذِي أَحْبَبْتَنِي لَهُ. قَالَ: ثُمَّ رَجَعَ. فَسَأَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهٗ بِمَا قَالَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكَ مَا احْتَسَبْتَ رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ .وَفِي رِوَايَةِ التِّرْمِذِيِّ: الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ، وَلَهُ مَا اكْتَسَبَ

وعن أنس قال: مر رجل بالنبي صلى الله عليه وسلم وعنده ناس. فقال رجل ممن عنده: إني لأحب هذا لله. فقال النبي صلى الله عليه وسلم: أعلمته؟ قال: لا. قال: قم إليه فأعلمه . فقام إليه فأعلمه فقال: أحبك الذي أحببتني له. قال: ثم رجع. فسأله النبي صلى الله عليه وسلم فأخبره بما قال. فقال النبي صلى الله عليه وسلم: أنت مع من أحببت ولك ما احتسبت رواه البيهقي في شعب الإيمان .وفي رواية الترمذي: المرء مع من أحب، وله ما اكتسب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر گزرا حضور انور کے پاس کچھ لوگ تھے تو آپ کے پاس والوں میں سے ایک شخص نے عرض کیا کہ میں اس سے الله کے لیے محبت کرتاہوں ۱∞؎تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم نے اسے بتادیا ہے عرض کیا نہیں فرمایا اس کے پاس جاؤ اسے بتادو ۲؎چنانچہ وہ شخص اسکے پاس گیا اسے یہ خبر دی۳؎وہ بولا کہ تجھ سے وہ محبت کرے جس کی راہ میں تو نے مجھ سے محبت کی ہے ۴؎راوی فرماتے ہیں کہ پھر واپس ہوا تو اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا۵؎تو اس نے حضور کو خبر دی جو اس نے کہا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو اس کے ساتھ ہوگا جس سے محبت کرے ۶؎اور تیرے لیے وہ ہے جو تم نے طلب اجر کیا ۷؎(بیہقی شعب الایمان)اور ترمذی کی روایت میں ہے کہ انسان اس کے ساتھ ہوگا جس سے محبت کرے اور اس کے لیے وہ ہے جو کمائے ۸؎

شرح حدیث

۱∞؎اپنے اعمال صالحہ کی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دینا سنت صحابہ ہے اس سے اعمال زیادہ قبول ہوتے ہیں۔
۲
؎کہ میں تجھ سے محبت کرتا ہوں اور محبت بھی خالصًا لوجہ الله ہے تاکہ اس کے دل پر تمہاری اسی محبت کا اثر ہو اور وہ بھی تم سے محبت کرنے لگے اور محبت موالاۃ بن جاوے ظاہر ہے کہ موالات محبت سے قوی تر ہے۔
۳
؎یعنی اس پہلے شخص نے اس دوسرے شخص کو خبر دی حضور کے حکم پر عمل کرتے ہوئے۔خیال رہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم وجوبی نہیں استحبابی ہے کہ محبت کی خبر دینا واجب نہیں ہوسکتا ہے کہ اس کے لیے وجوبی ہو۔
۴
؎سبحان الله!اس خبر دینے کا یہ نتیجہ ہوا یقین ہے کہ اس کے دل میں بھی اس سے محبت پیدا ہوگئی ہوگی غالبًا اس شخص نے اس دوسرے شخص کا تقویٰ عبادات اسلام پر پختگی وغیرہ دیکھ کر اس سے محبت کی تھی لہذا یہ محبت فی الله تھی۔
۵
؎یہ پوچھا کہ تم نے ان صاحب سے کیا کہا اور انہوں نے تم کو کیا جواب دیا،یہ پوچھنا ایسا ہی ہے جیسے رب تعالٰی فرشتوں سے اپنے بندوں کے اعمال کے متعلق پوچھتا ہے حالانکہ علیم ہے خبیر ہے حضور انور کو سب کچھ خبر ہے مگر اس پوچھنے میں لاکھوں حکمتیں ہیں۔
۶
؎معلوم ہوتا ہے کہ وہ دوسرے صاحب بڑے پایہ کے بزرگ تھے جن کی ہمراہی ان اول صاحب کے لیے باعث برکت و رحمت تھی اسی لیے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے بطورِ بشارت یہ فرمایا۔
۷
؎ہمراہ سے مراد دین و دنیا حتی کہ جنت میں ہمراہی ہے۔
۸
؎یعنی تم نے اس شخص سے محض الله واسطے محبت کی ہے اس محبت میں کوئی دنیاوی لالچ نہیں اس لیے تمہاری یہ محبت بھی عبادت ہے۔احتساببنا ہےحسبسے جیسےاعتدادعددسےحسبکے لفظی معنی ہیں حساب لگانا یا گمان کرنااحتسابکے معنی ہیں اجر طلب کرنا الله کی رضا چاہنا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5017