Main Icon

باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5007

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّ رَجُلًا زَارَ أَخًا لَهٗ فِي قَرْيَةٍ أُخْرٰى فَأَرْصَدَ اللّٰهُ لَهٗ عَلٰى مَدْرَجَتِهٖ مَلَكًا قَالَ: أَيْنَ تُرِيدُ؟ قَالَ: أُرِيدُ أَخًا لِي فِي هٰذِهِ القَرْيَةِ. قَالَ: هَلْ لَكَ عَلَيْهِ مِنْ نِعْمَةٍ تَرُّبُّهَا؟ قَالَ: لَا غَيْرَ أَنِّي أَحْبَبْتُهٗ فِي اللّٰهِ. قَالَ: فَإِنِّي رَسُولُ اللّٰهِ إِلَيْكَ بِأَنَّ اللّٰهَ قَدْ أَحَبَّكَ كَمَا أَحْبَبْتَهٗ فِيهِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعنه عن النبي صلى الله عليه وسلم: " أن رجلا زار أخا له في قرية أخرى فأرصد الله له على مدرجته ملكا قال: أين تريد؟ قال: أريد أخا لي في هذه القرية. قال: هل لك عليه من نعمة تربها؟ قال: لا غير أني أحببته في الله. قال: فإني رسول الله إليك بأن الله قد أحبك كما أحببته فيه ". رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی کہ ایک شخص نے اپنے بھائی سے دوسری بستی میں ملاقات کی ۱∞؎الله تعالٰی نے اس کے اوپر ایک فرشتہ مقرر کردیا ۲؎وہ بولا کہاں جاتا ہے۳؎اس نے کہا کہ اس بستی میں اپنے ایک بھائی کا ارادہ کرتا ہوں وہ بولا تیرا اس پر احسان ہے جسے تو حاصل کرنا چاہتا ہے۴؎بولا نہیں بجز اس کے کہ میں اس سے الله کے لیے محبت کرتا ہوں ۵؎فرشتہ نے کہا کہ میں تیری طرف الله کا قاصد ہوں کہ الله تجھ سے محبت کرتا ہے جیسے تو نے اس سے محبت کی ۶؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں ملاقات کرنے سے مراد ہے ملاقات کے لیے جانا ملاقات کا ارادہ کرنا،بھائی سے مراد ایمانی اسلامی بھائی ہے جس کو الله کے لیے بھائی بنایا ہو خواہ نسبی بھائی بھی ہو یا نہیں۔
۲
؎عربی میںمدرجراستہ کو بھی کہتے ہیں سیڑھی کو بھی یعنی چلنے کی جگہ یا چڑھنے کی،یہاں بمعنی راستہ ہے۔ ممکن ہے کہ اس کی بستی یہاں سے کچھ بلندی میں ہو فرشتہ یا حضرت جبریل علیہ السلام تھے یا کوئی اور دوسرا فرشتہ جو پہلے سے وہاں مقرر کردیا گیا۔(ازمرقات)۳؎یہ سوال بے علمی کی بناء پر نہیں بلکہ اس سے وہ جواب حاصل کرنے کے لیے ہے جو یہاں مذکور ہے اور اسے بشارت دینے کے لیے ہے تاکہ لوگ یہ دونوں باتیں سنیں،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اسے بیان فرمانا اسی مقصد کے لیے ہے۔
۴
؎یعنی تو کبھی اس پر احسان کرچکا ہے جس کا عوض حاصل کرنے کے لیے جاتا ہے یا اس کا تجھ پر کچھ احسان ہے جس کا عوض دینے تو جارہا ہے۔ترببناہےربسے بمعنی پرورش کرنا،مالك كرنا ،حاصل کرنا،اصلاح کرنا۔(اشعۃ اللمعات)۵؎یعنی اس سے میری محبت اس لیے ہے کہ وہ الله کا نیک بندہ ہے اور نیک بندوں کی محبت سے الله تعالٰی راضی ہوجاتا ہے بخشے ہوؤں کی ملاقات کرو کہ تم بھی بخشے جاؤ۔
اُٹھ جاگ فرید استیا توں خلقت ویکھن جا مت کوئی بخشیا مل پوے توں بھی بخشیا جا
۶
؎یعنی تیرا یہ عمل بارگاہِ الٰہی میں قبول ہوگیا اور تیرا مقصد حاصل ہوگیا۔اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ الله کے واسطے کسی سے محبت کرنا بہترین نیکی ہے۔دوسرے یہ کہ ایسی محبت الله تعالٰی کی محبت کا ذریعہ ہے۔تیسرے یہ کہ صالحین کی ملاقات ان کی زیارت کے لیے جانا بہت افضل ہے۔چوتھے یہ کہ عام انسان فرشتہ کو شکل انسانی میں دیکھ سکتے ہیں۔پانچویں یہ کہ الله تعالٰی کبھی حضرات اولیاءاللہ کے پاس فرشتہ کے ذریعہ پیغام بھیجتا ہے یہ درجہ الہام سے اوپر ہے۔(مرقات)مگریہ پیغام وحی نہیں کہ وحی حضرات انبیاء کے سواءکسی کو نہیں ہوتی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5007