Main Icon

باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5014

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي ذَرٍّ: يَا أَبَا ذَرٍّ أَيُّ عُرَى الْإِيمَانِ أَوْثَقُ؟ قَالَ: اللّٰهُ وَرَسُولُهٗ أَعْلَمُ. قَالَ: الْمُوَالَاةُ فِي اللّٰهِ وَالْحُبُّ فِي اللّٰهِ وَالْبُغْضُ فِي اللّٰهِ .رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ

وعن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لأبي ذر: يا أبا ذر أي عرى الإيمان أوثق؟ قال: الله ورسوله أعلم. قال: الموالاة في الله والحب في الله والبغض في الله .رواه البيهقي في شعب الإيمان

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے جناب ابوذر سے فرمایا اے ابوذر ایمان کی گرہوں میں سے کون سی گرہ ۱∞؎مضبوط ہے عرض کیا الله رسول ہی خوب جانیں فرمایا الله کی راہ میں دوستی الله کی راہ میں محبت اور الله کی راہ میں عداوت ۲؎(بیہقی شعب الایمان)

شرح حدیث

۱∞؎عریجمع ہےعروۃکی،عروہ رسی کا وہ کنارہ جو ڈول سے بندھا ہوتا ہے اور ڈول اس سے وابستہ ہوتا ہے پھر ہر اس چیز کو عروہ کہا جانے لگا جس سے کوئی چیز پکڑی جاوے جیسے کوزہ کا دستہ وغیرہ لہذا عروہ کے معنی گرہ بہت مناسب ہے یہاں اس سے مراد ایمان کے ارکان اور مؤمنوں کے اعمال ہیں یعنی ایمان کا کون سا رکن اور مؤمن کا کون سا عمل زیادہ لائق بھروسہ ہے۔
۲
؎دو طرفہ دوستی موالات ہے اور یک طرفہ دوستی حب،یوں ہی دو طرفہ عداوت معادات ہے یک طرفہ دشمنی بغض۔ (مرقات)یعنی لڑائی الله کے لیے ہے ملاپ الله کے لیے یعنی جو الله کا مقبول ہو وہ ہمارا پیارا ہوجائے اگرچہ اجنبی ہو اور جو الله کا مردود ہو وہ ہمارا دشمن ہوا اگرچہ قرابت دارہو۔حضرت سعدی رحمۃ اللہ علیہ نے کیا خوب فرمایا
ہزار خویش کہ بیگانہ از خدا باشد فداء یک تن بیگانہ کاشنا باشد
رام نام کشے بھلے کہ ٹپ ٹپ ٹپکے چام واردی کنچن دیہہ کو کہ جس کا نا ہیں رام

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5014