Main Icon

باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5006

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللّٰهَ يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: أَيْنَ الْمُتَحَابُّونَ بِجَلَالِي؟ الْيَوْمَ أُظِلُّهُمْ فِي ظِلِّي يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلِّي ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إن الله يقول يوم القيامة: أين المتحابون بجلالي؟ اليوم أظلهم في ظلي يوم لا ظل إلا ظلي ". رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ الله تعالٰی قیامت کے دن فرمائے گا کہ کہاں ہیں میری عظمت کے لیے آپس میں محبت کرنے والے ۱∞؎آج میں انہیں اپنے سایہ میں جگہ دوں گا جب کہ میرے سایہ کے سوا کوئی سایہ نہیں ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی وہ مسلمان ہماری بارگاہ میں حاضر ہوں جو کسی دنیاوی وجہ سے نہیں بلکہ صرف میری رضا میری خوشنودی کی وجہ سے آپس میں محبت کرتے تھے کہ میری عظمت ان کے دلوں میں تھی اس لیے مجھے راضی کرنا چاہتے تھے میرے بندوں کو راضی کرکے۔
۲
؎ظلکے معنی ہیں سایہ مگر کبھی اس سے مراد ہوتی ہے پناہ،امان جیسے کہا جاتا ہے کہ عادل بادشاہظل اللهہے یا بزرگوں کو لکھتے ہیںدام ظلھم،اگر یہاں سایہ کے معنی میں ہیں تو مراد ہے عرش اعظم کا سایہ کہ سایہ جسم کا ہوتا ہے رب تعالٰی جسم سے پاک ہے اور اگر مراد ہے پناہ تو ظاہر ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5006