- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 6
- اچھی باتوں کا بیان
- حدیث نمبر 5005
باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5005
اچھی باتوں کا بیان - جلد 6
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللّٰهَ إِذَا أَحَبَّ عَبْدًا دَعَا جِبْرِيلَ فَقَالَ: إِنِّي أُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبَّهٗ قَالَ: فَيُحِبُّهٗ جِبْرِيلُ ثُمَّ يُنَادِي فِي السَّمَآءِ فَيَقُولُ: إِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبُّوهُ فَيُحِبُّهٗ أَهْلُ السَّمَاءِ ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ القَبُولُ فِي الْأَرْضِ. وَإِذَا أَبْغَضَ عَبْدًا دَعَا جِبْرِيلَ فَيَقُولُ: إِنِّي أُبْغِضُ فُلَانًا فَأَبْغِضْهُ.قَالَ فَيُبْغِضُهٗ جِبْرِيلُ ثُمَّ يُنَادِي فِي أَهْلِ السَّمَآءِ: إِنَّ اللّٰهَ يُبْغِضُ فَلَانَا فَأَبْغِضُوهُ. قَالَ: فَيُبْغِضُونَهُ. ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ البَغْضَاءُ فِي الْأَرْضِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ
وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إن الله إذا أحب عبدا دعا جبريل فقال: إني أحب فلانا فأحبه قال: فيحبه جبريل ثم ينادي في السماء فيقول: إن الله يحب فلانا فأحبوه فيحبه أهل السماء ثم يوضع له القبول في الأرض. وإذا أبغض عبدا دعا جبريل فيقول: إني أبغض فلانا فأبغضه.قال فيبغضه جبريل ثم ينادي في أهل السماء: إن الله يبغض فلانا فأبغضوه. قال: فيبغضونه. ثم يوضع له البغضاء في الأرض ". رواه مسلم
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ الله تعالٰی جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے ۱∞؎تو حضرت جبریل کو بلاتا ہے پھر فرماتا ہے کہ میں فلاں سے محبت کرتا ہوں ۲؎تم اس سے محبت کرو چنانچہ جبریل اس سے محبت کرتے ہیں ۳؎آسمان میں اعلان کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ الله تعالٰی فلاں سے محبت کرتا ہے۴؎تم لوگ اس سے محبت کرو ۵؎تو اس سے آسمان والے محبت کرتے ہیں ۶؎پھر اس کے لیے زمین میں قبولیت رکھ دی جاتی ہے ۷؎اور جب رب تعالٰی کسی بندے سے ناراض ہوتا ہے تو فرماتا ہے کہ میں فلاں سے ناراض ہوں تو تم بھی اس سے ناراض ہوجاؤ فرمایا کہ جبرئیل اس سے ناراض ہوجاتے ہیں پھر آسمان والوں میں اعلان کرتے ہیں کہ الله تعالٰی فلاں سے ناراض ہے تم لوگ بھی اس سے ناراض ہوجاؤ ۸؎فرمایا پھر وہ لوگ اس سے نفرت کرتے ہیں پھر زمین میں اس کے لیے نفرت رکھ دی جاتی ہے ۹؎(مسلم)
شرح حدیث
۱∞؎یعنی جب یہ روحیں بدنوں میں آگئی تو ہر روح کو اس روح سے الفت ہوگی جس کے ساتھ پہلے خلط ملط رہ چکی ہے اگرچہ دنیا میں مختلف زمانوں مختلف زمینوں میں رہیں۔
۲؎یعنی جو روحیں وہاں عالم ارواح میں الگ الگ تھیں کہ یہ روح ایک زمرہ کی تھی وہ روح دوسرے زمرہ کی وہ بدن میں آنے کے بعد اگرچہ ایک جگہ رہیں مگر ان میں الفت نہ ہوگی نفرت ہوگی۔
ناریاں مر ناریاں را طالب اند نوریاں مر نوریاں راجاذب اند
کنعان حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا ہوکر الگ رہا،بلقیس یمن میں رہتے ہوئے حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس پہنچ گئی،ابوجہل مکہ میں رہتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دور رہا،اویس قرنی دور رہتے ہوئے حضور سے قریب ہو رہے بعد دار اور قرب مزار کچھ نہیں۔
۳؎ظاہر یہ ہے کہ بندہ سے مراد مؤمن انسان ہے،محبت سے مراد یا تو اس کی بھلائی کا ارادہ فرمانا ہے تو یہ محبت رب کی ذاتی صفت ہے یا اس بندہ پر کرم و احسان فرمانا ہے تو یہ صفت فعل ہے لہذا حدیث ظاہر ہے اس پر علم کلام کا کوئی اعتراض نہیں۔
۴؎چونکہ حضرت جبریل تمام فرشتوں سے افضل ہیں،نیز جبریل علیہ السلام ہی خالق و مخلوق کے درمیان سفیر ہیں اور حضرات انبیاءکرام پر وحی لانے والے اس لیے ان سے ہی یہ فرمایا جاتا ہے۔بلانے سے مراد انہیں مطلع فرمانے کے لیے ندا فرمانا ہے۔رب تعالٰی کی محبت کا سبب یا اس بندے کے نیک اعمال ہوتے ہیں یا کسی محبوب بندے کا محبوب ہونا۔
۵؎یعنی اے آسمان کے فرشتو صرف اس لیے اس بندے سے محبت کرو کہ وہ الله کا پیارا ہے تاکہ تم اس سے محبت کرکے الله کے اور زیادہ محبوب بن جاؤ،یہ ہےمحبت فی اللهاورمحبت من الله۔
۶؎یعنی اس اعلان پر سارے آسمان والے اس بندے سے محبت کرنے لگتے ہیں اس کے لیے دعائیں کرتے ہیں۔
۷؎زمین سے مراد زمینی باشندے انسان ہیں یا جن و انس دونوں مگر وہ جن و انس جو اہل محبت سے ہوں جو بہ شکل انسان جانور ہیں وہ محبت نہ کریں تو نہ کریں۔چنانچہ حضرات انبیاء اولیاء،حضرات صحابہ و اہل بیت کے بہت لوگ دشمن ہیں،یہ لوگ اہل محبت اور دل والے نہیں لباس آدمی میں شیر بھیڑیئے ہیں۔(مرقات)اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے دل اس بندے کی طرف کھنچنے لگتے ہیں وہ دلوں کا مقناطیس بن جاتا ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَہُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا"یہ حدیث اس آیت کی شرح ہے۔
۸؎یعنی اے آسمان والو فلاں بدنصیب انسان سے الله تعالٰی ناراض ہے اس پر غضب کرنا چاہتا ہے تم اس سے نفرت کرو اس کے لیے بددعائیں کرو۔
۹؎یعنی ایسے شخص سے فرشتے نفرت کرتے ہیں اسے بددعائیں دیتے ہیں اور دل والے محبت والے انسانوں کے دلوں میں قدرتی طور پر اس سے نفرت ہوجاتی ہے اگر کچھ برے لوگ اس کی طرف مائل ہوں تو اس کا اعتبار نہیں۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5005