Main Icon

باب:جامع دعائیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2503

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَنْبَغِي لِلْمُؤْمِنِ أَنْ يُذِلَّ نَفْسَهُ» . قَالُوا: وَكَيْفَ يُذِلُّ نَفْسَهٗ؟ قَالَ: «يَتَعَرَّضُ مِنَ الْبَلَاءِ لِمَا لَا يُطِيقُ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ

وعن حذيفة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا ينبغي للمؤمن أن يذل نفسه» . قالوا: وكيف يذل نفسه؟ قال: «يتعرض من البلاء لما لا يطيق» رواه الترمذي وابن ماجه والبيهقي في شعب الإيمان. وقال الترمذي: هذا حديث حسن غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت حذیفہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے مسلمان کو یہ لائق نہیں کہ اپنے کو ذلیل کرے ۱؎لوگوں نے پوچھا حضور ذلیل کیسے کرے فرمایا اپنے کو ان آفتوں پر پیش کرے جن کی طاقت نہ رکھتا ہو ۲؎(ترمذی،ابن ماجہ،بیہقی شعب الایمان)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن ہے غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اپنی خواہش اور مرضی سے اپنے کو ذلت میں نہ ڈالے لہذا یہ فرمان اس حدیث کے خلاف نہیں کہ مؤمن علت یاقلت یا ذلت سے خالی نہیں رہتا ،یہاں ذلت سے مراد عزت کےمقابلے میں ذلت نہیں بلکہ بےبسی مراد ہے
۲
؎یعنی یا تو رب سے سختیاں مانگ لے یا اپنے آپ کو بلا ضرورت سختیوں میں ڈال لے لہذا یہ حدیث احکام جہاد کے خلاف نہیں۔بدر میں ۳۱۳ بے سامان صحابہ ہزار ہتھیار بند کفار کے مقابلہ میں ڈٹ گئے کہ وہاں دینی ضرورت تھی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2503