Main Icon

باب:جامع دعائیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2493

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اَللّٰهُمَّ انْفَعْنِي بِمَا عَلَّمْتَنِي وَعَلِّمْنِي مَا يَنْفَعُنِي وَزِدْنِي عِلْمًا الْحَمْدُ لِلّٰهِ عَلٰى كُلِّ حَالٍ وَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْ حَالِ أَهْلِ النَّارِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ إِسْنَادًا

وعن أبي هريرة قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «اللهم انفعني بما علمتني وعلمني ما ينفعني وزدني علما الحمد لله على كل حال وأعوذ بالله من حال أهل النار» . رواه الترمذي وابن ماجه وقال الترمذي: هذا حديث غريب إسنادا

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم یہ فرمایا کرتے تھے الٰہی تو مجھے اس سے نفع دے جو تو نے مجھے سکھایا اور مجھے نافع چیزیں سکھا اور میرا علم بڑھا ۱؎ہر حال میں اللّٰه کا شکر ہے ۲؎اور دوزخیوں کے حال سے اللّٰه کی پناہ لیتا ہوں۳؎(ترمذی،ابن ماجہ) ترمذی نے فرمایا یہ حدیث اسناد سے غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎علم چند قسم کے ہیں:نقصان دہ،بیکار،صرف اپنے کو نافع دوسروں کو بھی نافع،یہاں چوتھی قسم کے علم کی طلب ہے،بعض علم اوروں کو مفید خود اپنے کو مضر یا بیکار ہیں اس سے بھی اللّٰه بچائے،جیسے بد عمل یا بے عمل عالم کا علم۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ عالم بے عمل ایسا ہے جیسے شب تار میں اندھا شمع دار۔
۲
؎یعنی رنج و خوشی،تنگی و فراخی میں اللّٰه کا شکر (عمل)جو شخص چھینک پر"اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَلٰی کُلِّ حَالٍ"کہہ کر سارے دانتوں پر زبان پھیرے تو ان شاءاللّٰه اس کے دانت خراب نہ ہوں گے اور اگر ساتھ ہی ہر وضو میں مسواک بھی کیا کرے توسبحان اللّٰه!۳؎دنیا میں کفر و فسق اور آخرت میں عذاب و عقاب دوزخیوں کے حالات ہیں ان سب سے اللّٰه بچائے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2493