Main Icon

باب:جامع دعائیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2499

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: دُعَاءٌ حَفِظْتُهٗ مِنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا أَدَعُهٗ : «اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِي أُعْظِمُ شُكْرَكَ وَأُكْثِرُ ذِكْرَكَ وَأَتَّبِعُ نُصْحَكَ وَأَحْفَظُ وَصِيَّتَكَ » . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن أبي هريرة قال: دعاء حفظته من رسول الله صلى الله عليه وسلم لا أدعه : «اللهم اجعلني أعظم شكرك وأكثر ذكرك وأتبع نصحك وأحفظ وصيتك » . رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں میں نے ایک دعا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم سے یاد کی ہے جسے میں کبھی نہیں چھوڑتا،الٰہی مجھے تو ایسا کردے کہ تیرا بہت شکر کروں اور تیرا بہت ذکر کروں ۱؎اور تیری نصیحت کی پیروی کروں اور تیری وصیت کی حفاظت کروں ۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎اُعْظِمَاوراُکْثِرَباب تفعیل سے بھی ہوسکتے ہیں اور باب افعال سے بھی مگر افعال سے ہونا زیادہ بہتر ہے یعنی الٰہی مجھے بہت نعمتیں دے اور ہر نعمت کے ہر شکر کی توفیق دے،شکر قولی بھی اور شکر عمل کی بھی اور مجھے توفیق دے کہ میں لسانی جنانی ارکانی ہر طرح تیرا بہت ذکر کروں۔ذکر و شکر کی تفصیل ہماری "تفسیرنعیمی" جلد دوم میں دیکھئے۔
۲
؎نصیحت کے معنی ہیں خیر خواہی اور وصیت سے مراد رب کے تاکیدی حکم،چونکہ رب کے ہر حکم میں ہماری خیر خواہی ہے اگرچہ وہ حکم ہم پر گراں ہوں اور ہماری بہت دعائیں جو رد ہوجاتی ہیں۔اس میں بھی ہماری خیر خواہی ہوتی ہے کہ ہم ناسمجھی سے بری چیزیں مانگ لیتے ہیں اس لیے رب کی قضاء پر رضا اور اس کے احکام کی اتباع چاہیے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2499