Main Icon

باب:جامع دعائیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2490

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلٰى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «سَلْ رَبَّكَ الْعَافِيَةَ وَالْمُعَافَاةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» ثُمَّ أَتَاهُ فِي الْيَوْمِ الثَّانِي فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ؟ فَقَالَ لَهٗ مِثْلَ ذٰلِكَ ثُمَّ أَتَاهُ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ فَقَالَ لَهٗ مِثْلَ ذٰلِكَ قَالَ: «فَإِذَا أُعْطِيتَ الْعَافِيَةَ وَالْمُعَافَاةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ فَقَدْ أَفْلَحْتَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ إِسْنَادًا

وعن أنس أن رجلا جاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله أي الدعاء أفضل؟ قال: «سل ربك العافية والمعافاة في الدنيا والآخرة» ثم أتاه في اليوم الثاني فقال: يا رسول الله أي الدعاء أفضل؟ فقال له مثل ذلك ثم أتاه في اليوم الثالث فقال له مثل ذلك قال: «فإذا أعطيت العافية والمعافاة في الدنيا والآخرة فقد أفلحت» . رواه الترمذي وابن ماجه وقال الترمذي: هذا حديث حسن غريب إسنادا

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے کہ ا یک شخص نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا،عرض کیا یارسول اللّٰه دعا کون سی افضل ہے ۱؎فرمایا اپنے رب سے دنیا و آخرت میں امن و چین مانگو۲؎پھر وہ دوسرے دن حاضر ہوا عرض کیا یارسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کون سی دعا افضل ہے حضور نے اسی طرح پھر فرمایا ۳؎پھر وہ تیسرے دن حاضر ہوا پھر اسی طرح عرض کیا حضور نے فرمایا کہ جب تجھے دنیا و آخرت میں امن و معافی دے دی جائے تو تو کامیاب ہو جائے گا۴؎(ترمذی،ابن ماجہ) ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن ہے اسناد سے غریب ہے ۵؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی مجھے کون سی دعا زیادہ فائدہ مند ہے یا سارے لوگوں کے لیے ساری دعاؤں میں سے کون سی افضل۔اس سوال سے معلوم ہوا صحابہ کرام کا عقیدہ یہ تھا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم ہم پر ہم سے زیادہ مہربان ہیں،ہم غلطی سے نقصان دہ دعائیں بھی مانگ لیتے ہیں،حضور کی بتائی ہوئی دعا میں یہ احتمال نہیں اسی لیے دعائے ماثور جو بزرگوں سے منقول ہو غیر ماثورہ سے افضل ہے۔
۲
؎یعنی دین و بدن میں امن اور مخلوق کی شر سے چین کہ کوئی جن و انس ہمیں بے چین نہ کرسکے،نہ دنیا میں نہ آخرت میں۔
۳
؎خیال یہ تھا کہ شاید لمبی چوڑی دعائیں جن میں وقت بہت صرف ہومانگنی چاہئیں اس مختصر دعا کی اہمیت نہ سمجھ سکے۔حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کا منشا یہ تھا کہ میرے غلام کام کاج والے ہیں انہیں چھوٹی مگر جامع دعائیں بتائی جائیں تاکہ ان کے دنیوی کام بھی بند نہ ہوں اس لیے یہ سوال جواب واقع ہوئے۔
۴
؎کیونکہ معافات میں جسمانی،روحانی،نفسانی،شیطانی تمام آفتوں سے سلامتی شامل ہے جسے ان تمام آفات سے امن مل گئی،اس کے لیے باقی کون سی چیز رہ گئی اس لیے لمبی دعا کی خواہش نہ کر۔
۵
؎خیال رہے کہاسنادًاغریب کی تمیز ہے نہ کہ حسن کی کیونکہ غرابت کبھی متن حدیث میں ہوتی ہے کبھی اسناد حدیث میں مگر حسن صرف اسناد ہی کے لحاظ سے ہوتی ہے نہ کہ متن کے،اس کے لیےاسنادًاکہنے کی ضرورت ہی نہیں۔طبرانی میں حضرت عباس سے روایت اس طرح ہے کہ ایک بار میں نے بارگاھِ اقدس میں عرض کیا کہ یارسول اللّٰه مجھے کچھ دعا سکھائیے،سرکار نے فرمایا اللّٰه سے عافیت مانگو،کچھ روز بعد پھر میں حاضر ہوا اور میں نے یہ ہی عرض کیا تو فرمایا کہ چچا جان عافیت کی دعا زیادہ مانگا کروکیونکہ یہ دعا مقاصد حاصل کرنے اور بلائیں دفع کرنے کے لیے کافی ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2490