- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 4
- دعاؤں کا بیان
- حدیث نمبر 2495
باب:جامع دعائیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2495
دعاؤں کا بیان - جلد 4
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ: إِنَّ رَجُلًا ضَرِيرَ الْبَصَرِ أَتٰى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ادْعُ اللّٰه أَنْ يُعَافِيَنِي فَقَالَ: «إِنْ شِئْتَ دَعَوْتُ وَإِنْ شِئْتَ صَبَرْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ» . قَالَ: فَادْعُهٗ قَالَ: فَأَمَرَهٗ أَنْ يَتَوَضَّأَ فَيُحْسِنَ الْوُضُوءَ وَيَدْعُو بِهٰذَا الدُّعَاءِ: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّهٗ إِلَيْكَ بِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ إِنِّي تَوَجَّهْتُ بِكَ إِلٰى رَبِّي لِيَقْضِيَ لِي فِي حَاجَتِي هٰذِهٖ اَللّٰهُمَّ فَشَفِّعْهُ فِيَّ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ
عن عثمان بن حنيف قال: إن رجلا ضرير البصر أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: ادع الله أن يعافيني فقال: «إن شئت دعوت وإن شئت صبرت فهو خير لك» . قال: فادعه قال: فأمره أن يتوضأ فيحسن الوضوء ويدعو بهذا الدعاء: «اللهم إني أسألك وأتوجه إليك بنبيك محمد نبي الرحمة إني توجهت بك إلى ربي ليقضي لي في حاجتي هذه اللهم فشفعه في. رواه الترمذي وقال: هذا حديث حسن صحيح غريب
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت عثمان ابن حنیف سے فرماتے ہیں ایک نابینا شخص نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا ۱؎عرض کیا حضور اللّٰه سے دعا کریں کہ مجھے آرام دے ۲؎فرمایا اگر تو چاہے تو دعا کردوں اور اگر چاہے تو صبر کر یہ صبر تیرے لیے اچھا ہے ۳؎وہ بولا حضور رب سے دعا کردیں۴؎راوی کہتے ہیں تو حضور نے اسے حکم دیا کہ اچھی طرح وضو کرے اور یہ دعا مانگے ۵؎الٰہی میں تجھ سے مانگتا ہوں اور تیری طرف رحمت والے نبی حضور محمد مصطفی کے توسل سے متوجہ ہوتا ہوں۶؎یارسول اللّٰہ میں آپ کے توسل سے اپنے رب کی طرف توجہ کرتا ہوں تاکہ وہ میری حاجت پوری کردے ۷؎الٰہی میرے بارے میں ان کی شفاعت قبول کر ۸؎(ترمذی) اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
شرح حدیث
۱∞؎ظاہر یہ ہے کہ یہ شخص بالکل نابینا تھا،بعض شارحین نے جو کہا کہ وہ ضعیف البصر تھے یا ان کی ایک آنکھ بیکار تھی خلاف ظاہر ہے۔
۲؎اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام بیماریوں کی شکایت حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے کرتے تھے اور اکثر براہ راست خود رب تعالٰی سے دعا نہ مانگتے تھے بلکہ عرض کرتے تھے کہ حضور ہمارے لیے دعا مانگیں تاکہ الفاظ کے ساتھ زبان کی برکت و تاثیر بھی حاصل ہو،یہ ہے توسل کا عقیدہ،رب تعالٰی کی کوئی نعمت بغیر وسیلہ نہیں ملتی۔
۳؎کیونکہ رب تعالٰی فرماتا ہے کہ جس کی آنکھیں میں بیکار کردوں پھر اس پر صبر کرےتو میں اسے جنت ہی دوں گا،آنکھوں سے جنت بہتر ہے۔
۴؎ان نابینا صحابی کا مطلب یہ تھا کہ حضور مجھے آنکھیں بھی مل جائیں اور آخرت کی بھلائی بھی،آپ کے پاس کس چیز کی کمی ہے۔شعر
جھولیاں کھول کے بے سمجھے نہیں دوڑ آئے ہمیں معلوم ہے دولت تری عادت تری
یا یہ مطلب تھا کہ حضور کے صدقہ مجھے آخرت کی نیکیاں تو مل ہی گئی ہیں کہ مجھے رب تعالٰی نے ایمان دیا،تقویٰ بخشا،آپ کی صحابیت نصیب کی میری یہ ضرورت بھی پوری ہوجائے لہذا نہ تو سائل پر یہ اعتراض ہوسکتا ہے کہ انہوں نے آخرت پر دنیا کو ترجیح کیوں دی۔حق یہ ہے کہ انہوں نے تو اس آیت پر عمل کیا"رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الۡاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ"اور نہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے عمل شریف پر یہ سوال ہوسکتا ہے کہ آپ نے ایسے شخص کو دعا کیوں سکھائی،سرزنش کیوں نہ کی،نیز اس عرض میں حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے حکم صبر سے سرتابی نہیں ہے انہیں صبرکا حکم دیا ہی کب گیا،بطور مشورہ اختیار دیا گیا تھا بلکہ ناز غلامانہ کے انداز پر داتا سے زیادہ مانگنا ہے جیسے حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے حج کے موقعہ پر عرفات میں حاجیوں کی بخشش کی دعا کی،حقوق اللّٰه معاف کیے گئے پھر مزدلفہ میں حقوق العباد کی معافی کے لیے بھی دعا فرمائی۔
۵؎یعنی مسواک اور تمام سنتوں کے ساتھ وضو کرکے دو رکعت نماز حاجت پڑھے پھر یہ دعا مانگے۔(مرقات )معلوم ہوا کہ دعا کے لیے وضو اور نفل بہتر ہے۔خیال رہے کہ اس موقعہ پر انہیں سرکار نے خود دعا نہ دے دی بلکہ دعا اور اپنے وسیلہ کے الفاظ انہیں سکھائے تاکہ قیامت تک کہ مسلمان اس سے فائدہ اٹھائیں،اگر سرکار خود ہی دعا دے دیتےتو بعد والے لوگ یہ فیض کیسے پاتے۔بعض شارحین نے یہاں فرمایا کہ سرکار ان پر ناراض ہوگئے تھےکیونکہ انہوں نے حضور علیہ السلام کی بات نہ مانی اس لیے دعا نہ فرمائی مگر یہ صحیح نہیں،ورنہ سرکار نہ انہیں دعا سکھاتے نہ انہیں اپنے وسیلہ کی تعلیم دیتے۔
۶؎یعنی تیری بارگاہ میں براہ راست بغیر وسیلہ نہیں حاضر ہوا ان کا وسیلہ لے کر آیا ہوں جو خود رحمۃ للعالمین ہیں اوران کی امت امت مرحومہ ہے یعنی تو ا رحم الرحمین ہے اور تیرے نبی رحمۃ للعلمین ہیں اور میں تیرے فضل و کرم سے مرحوم۔
۷؎بِكَمیں حضور سے عرض معروض ہے،بعض روایتوں میں یوں ہےیَا مُحَمَّد إِنِّي تَوَجَّهْتُ بِكَ إِلٰى رَبِّي لِتَقْضِيَالختکے ساتھ۔ (مرقات)اسلتقضیمیں دو احتمال ہیں:واحد مؤنث مجہول ہو یعنی تاکہ میری حاجت پوری کردی جائے یا واحد مخاطب معروف ہو یعنی یارسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم آپ میری حاجت پوری کردیں،اس آخری معنی کی تائید قرآن شریف کی اس آیت سے ہوتی ہے"لَىٕنْ كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَ لَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚاےموسیٰ علیہ السلام اگر آپ نے ہم سے عذاب دور کردیا تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے اور آپ کے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دیں گے۔مذکورہ آیت و حدیث سے معلوم ہوا کہ اللّٰه کے محبوبین بحکم پروردگار دافع بلاء اور صاحب عطا ہیں اور حاجتوں میں انہیں پکارنا جائز ہے کیونکہ یہ دعا قیامت تک کے مسلمان پڑھ سکتے ہیں اور اس میں حضور علیہ السلام کو پکارا بھی گیا ہے اور حضور علیہ السلام کا وسیلہ بھی لیا گیا ہے۔
۸؎سبحان اللّٰه! اس دعا میں تین خطاب ہیں آگے پیچھے رب سے اور بیچ میں اس کے حبیب سے جیسے انگوٹھی کے وسط میں نگینہ۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2495