Main Icon

باب:جامع دعائیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2494

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ سُمِعَ عِنْدَ وَجْهِهٖ دَوِيٌّ كَدَوِيِّ النَّحْلِ، فَأُنْزِلَ عَلَيْهِ يَوْمًا فَمَكَثْنَا سَاعَةً فَسُرِّيَ عَنْهُ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَقَالَ: «اَللّٰهُمَّ زِدْنَا وَلَا تَنْقُصْنَا وَأَكْرِمْنَا وَلَا تُهِنَّا وَأَعْطِنَا وَلَا تَحْرِمْنَا وَآثِرْنَا وَلَا تُؤْثِرْ عَلَيْنَا وَأَرْضِنَا وَارْضَ عَنَّا» . ثُمَّ قَالَ: «أُنْزِلَ عَلَيَّ عَشْرُ آيَاتٍ مَنْ أَقَامَهُنَّ دَخَلَ الْجَنَّةَ» ثُمَّ قَرَأَ: (قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ)
حَتَّى خَتَمَ عَشْرَ آيَاتٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيّ

وعن عمر بن الخطاب قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا أنزل عليه الوحي سمع عند وجهه دوي كدوي النحل، فأنزل عليه يوما فمكثنا ساعة فسري عنه فاستقبل القبلة ورفع يديه وقال: «اللهم زدنا ولا تنقصنا وأكرمنا ولا تهنا وأعطنا ولا تحرمنا وآثرنا ولا تؤثر علينا وأرضنا وارض عنا» . ثم قال: «أنزل علي عشر آيات من أقامهن دخل الجنة» ثم قرأ: (قد أفلح المؤمنون)
حتى ختم عشر آيات. رواه أحمد والترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم پر جب وحی اترتی تو آپ کے چہرہ انور کے پاس شہد کی مکھیوں کی سی بھنبھناہٹ سنی جاتی تھی ۱؎ایک دن آپ پر وحی اتری تو ہم کچھ ٹھہرے پھر وہ حالت جاتی رہی ۲؎حضور نے قبلہ کو منہ کیا دونوں ہاتھ اٹھائے ۳؎اور عرض کیا الٰہی سب کو بڑھا دے گھٹا مت،ہمیں عزت دے ہمیں ذلیل نہ کر،ہمیں عطائیں دے محروم نہ کر،ہم کو ترجیح دے ہم پر اوروں کو ترجیح نہ دے،ہم کو راضی کر ہم سے راضی ہوجا۴؎پھر فرمایا ہم پر دس آیتیں اتری ہیں جو انہیں قائم کرے(عمل کرے)تو جنت میں جائے گا پھر تلاوت کی "قَدْ اَفْلَحَ الْمُوْمِنُوْنَ"دس آیات تک ۵؎(احمد،ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎ظاہر یہ ہے کہ یہ آواز حضرت جبریل علیہ السلام کی ہوتی تھی جسے صحابہ سنتے تو تھے مگر سمجھ نہ سکتے تھے کہ کیا کہہ رہے ہیں جب کسی کی ہلکی آواز سنی جائے اور الفاظ سمجھ میں نہ آئیں تو شہد کی مکھی کی سی بھنبھناہٹ ہی معلوم ہوتی ہے۔بعض شارحین نے کہا کہ وہ حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے خراٹہ کی آواز ہوتی تھی جو نزول وحی کے وقت بے اختیار آپ سے صادر ہوتی تھی،اس سے تو حضور کو سخت سردی میں پسینہ بھی آجاتا تھا اور جسم مبارک بہت بھاری ہوجاتا تھا حتی کہ اگر کسی پر ران شریف رکھی ہوتی تو وہ شخص ران شریف میں بہت ہی زیادہ وزن محسوس کرتا تھا مگر پہلی شرح درست ہے کہ وہ حضرت جبریل کی آواز ہوتی تھی۔(لمعات و مرقات)
۲
؎نزول وحی ختم ہوجانے پر کچھ دیر تک یہ ہی حالت رہتی تھی،پھر جب یہ حالت منقطع ہوتی تھی تب حضور علیہ السلام صحابہ کو وحی سناتے تھے کہ آج یہ آیت یا یہ حکم آیا ایسے ہی آج ہوا۔
۳
؎یعنی دعا مانگنے کے لیے آپ روبقبلہ بھی ہو گئے دونوں ہاتھ آسمان کیطرف بھی اٹھائے کہ یہ دونوں کام سنت ہیں،دعا میں دونوں ہاتھ اٹھانے چاہئیں کہ مولٰی ہم کو دونوں جہان کی نعمتیں دے۔(مرقات)
۴
؎اولًا حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے یہ دعائیں مانگیں،پھر سورۂ مومنون کی دس اگلی آیتیں سنائیں کیونکہ ان آیات میں دس احکام ہیں جن کی عاملین کو رحمت کی بشارت ہے غافلین کو عذاب کی دھمکی۔ان دعاؤں کا مضمون یہ ہے کہ الٰہی ہماری تعداد یا ہماری نعمتیں بڑھاتا رہ گھٹا نہیں،ہمیں دنیا و آخرت میں عزت دے ذلیل نہ کر،دوسروں کے مقابل ہم کو ہر نعمت سے ترجیح دے ہمارے مقابل دوسروں کو ترجیح نہ دے،ہمیں اپنے سے راضی رکھ اور ہم سے تو راضی رہ۔
۵
؎ان آیتوں میں نماز میں عجزو نیاز،بیہودہ باتوں سے علیحدہ رہنا،زکوۃ کی ادائیگی،بدخلقی سے بچنا اپنی پارسائی کی حفاظت، امانتوں کی ادائیگی اور وعدوں کی پابندی،حق گوئی نہ چھپاناوغیرہ مذکور ہیں اور ان کی پابندی پر جنت کا وعدہ ہے،رب تعالٰی ان پر عمل نصیب کرے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2494