Main Icon

باب:جامع دعائیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2489

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي بَكْرٍقَالَ: قَامَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى المِنْبَرِ ثُمَّ بَكٰى فَقَالَ: «سَلُوا اللّٰهَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فَإِنَّ أَحَدًا لَمْ يُعْطَ بَعْدَ الْيَقِينِ خَيْرًا مِنَ الْعَافِيَةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ إِسْنَادًا

وعن أبي بكرقال: قام رسول الله صلى الله عليه وسلم على المنبر ثم بكى فقال: «سلوا الله العفو والعافية فإن أحدا لم يعط بعد اليقين خيرا من العافية» . رواه الترمذي وابن ماجه وقال الترمذي: هذا حديث حسن غريب إسنادا

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوبکر صدیق سے فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم منبر پر قیام فرما ہوئے پھر روئے ۱؎تو فرمایا اللّٰه سے معافی اور امن مانگو ۲؎کیونکہ کسی کو ایمان کے بعد امن سے بہتر کوئی نعمت نہ ملی ۳؎(ترمذی،ابن ماجہ)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث اسناد کے لحاظ سے حسن ہے،غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎حضور علیہ السلام کا یہ رونا اپنی امت کے آئندہ حالات ملاحظہ فرما کر تھا کہ اکثر لوگ فتنوں،شہوت مال کی حرص،اقتدار کی خواہش میں گرفتار ہوجائیں گے۔(مرقات)
۲
؎معافی سے مراد محو ذنوب و ستر عیوب ہے اور عافیت سے یہ مراد ہے کہ لوگ تم سے ا ور تم لوگوں سے امن میں رہو یا دین کا فتنوں سے اور بدن کا سخت بیماریوں سے محفوظ رہنا یعنی گناہوں سے معافی اور زندگی،موت،قبر،حشر کی آفتوں سے سلامتی مانگو۔(لمعات)
۳
؎حق یہ ہے کہ ایمان بھی عافیت ہی کے لیے اختیار کیا جاتا ہے اور ایمان کے معنی ہی ہیں اپنے کو آفتوں سے امن و عافیت دینا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2489