- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 4
- دعاؤں کا بیان
- حدیث نمبر 2497
باب:جامع دعائیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2497
دعاؤں کا بیان - جلد 4
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: صَلّٰى بِنَا عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ صَلَاةً فَأَوْجَزَ فِيهَا فَقَالَ لَهٗ بَعْضُ الْقَوْمِ: لَقَدْ خَفَّفْتَ وَأَوْجَزْتَ الصَّلَاةَ فَقَالَ أَمَا عَلَيَّ ذٰلِكَ لَقَدْ دَعَوْتُ فِيهَا بِدَعَوَاتٍ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا قَامَ تَبِعَهٗ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ هُوَ أَبِي غَيْرَ أَنَّهٗ كَنَّى عَنْ نَفْسِهٖ فَسَأَلَهٗ عَنِ الدُّعَاءِ ثُمَّ جَاءَ فَأَخْبَرَ بِهِ القَوْمَ: «اَللّٰهُمَّ بِعِلْمِكَ الْغَيْبَ وقُدرتِكَ عَلَى الخَلقِ أَحْيِنِي مَا عَلِمْتَ الْحَيَاةَ خَيْرًا لِي وَتَوَفَّنِي إِذَا عَلِمْتَ الْوَفَاةَ خَيْرًا لِي اَللّٰهُمَّ وَأَسْأَلُكَ خَشْيَتَكَ فِي الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ وَأَسْأَلُكَ كَلِمَةَ الْحَقِّ فِي الرِّضَآءِ وَالْغَضَبِ وَأَسْأَلُكَ الْقَصْدَ فِي الْفَقْرِ وَالْغِنٰى وَأَسْأَلُكَ نَعِيمًا لَا يَنْفَدُ وَأَسْأَلُكَ قُرَّةَ عَيْنٍ لَا تَنْقَطِعُ وَأَسْأَلُكَ الرِّضَآءَ بَعْدَ الْقَضَاءِ وَأَسْأَلُكَ بَرْدَ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَأَسْأَلُكَ لَذَّةَ النَّظَرِ إِلٰى وَجْهِكَ وَالشَّوْقِ إِلٰى لِقَائِكَ فِي غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ اَللّٰهُمَّ زِيِّنَا بِزِينَةِ الْإِيمَانِ وَاجْعَلْنَا هُدَاةً مَهْدِيِّينَ» . رَوَاهُ النَّسَائِيّ
وعن عطاء بن السائب عن أبيه قال: صلى بنا عمار بن ياسر صلاة فأوجز فيها فقال له بعض القوم: لقد خففت وأوجزت الصلاة فقال أما علي ذلك لقد دعوت فيها بدعوات سمعتهن من رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما قام تبعه رجل من القوم هو أبي غير أنه كنى عن نفسه فسأله عن الدعاء ثم جاء فأخبر به القوم: «اللهم بعلمك الغيب وقدرتك على الخلق أحيني ما علمت الحياة خيرا لي وتوفني إذا علمت الوفاة خيرا لي اللهم وأسألك خشيتك في الغيب والشهادة وأسألك كلمة الحق في الرضاء والغضب وأسألك القصد في الفقر والغنى وأسألك نعيما لا ينفد وأسألك قرة عين لا تنقطع وأسألك الرضاء بعد القضاء وأسألك برد العيش بعد الموت وأسألك لذة النظر إلى وجهك والشوق إلى لقائك في غير ضراء مضرة ولا فتنة مضلة اللهم زينا بزينة الإيمان واجعلنا هداة مهديين» . رواه النسائي
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت عطا بن سائب سے وہ اپنے والد سے راوی ۱؎فرماتے ہیں ہم کو حضرت عمار ابن یاسر نے نماز پڑھائی تو اس میں اختصار فرمایا۲؎تو ان سے بعض لوگوں نے عرض کیا کہ آپ نے نماز بہت ہلکی اور مختصر پڑھی تو فرمایا مجھے اس کا کوئی نقصان نہیں میں نے اس میں وہ دعائیں مانگ لی ہیں جو میں نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے سنیں ۳؎جب آپ اُٹھے تو قوم میں سے ایک شخص آپ کے پیچھے چلا وہ میرے والد تھے،ہاں انہوں نے اپنی ذات کو کنایۃً ذکر کیا ۴؎تو ان سے وہ دعا پوچھی پھر آئے وہ دعا قوم کو بتائی ۵؎الٰہی اپنے علم غیب اور مخلوق پر اپنی قدرت کے صدقہ مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک کہ زندگی کو میرے لیے بہتر جانے اور وفات دے دے جب موت کو میرے لیے بہتر جانے ۶؎الٰہی میں تجھ سے تیرا خوف مانگتا ہوں ظاہر و باطن میں ۷؎اور تجھ سے خوشی و ناخوشی میں سچی بات کی توفیق مانگتا ہوں۸؎اور تجھ سے امیری غریبی میانہ روی مانگتا ہوں ۹؎اور تجھ سے نہ مٹنے والی نعمت مانگتا ہوں اور تجھ سے وہ آنکھ کی ٹھنڈک مانگتا ہوں جو بند نہ ہو ۱۰؎اور تجھ سے رضا بقضا مانگتا ہوں اور تجھ سے بعد موت کے ٹھنڈی زندگی مانگتا ہوں ۱۱؎اور تجھ سے تیری ذات کو دیکھنے کی لذت اور تیری ملاقات کا شوق مانگتا ہوں بغیر مضر چیز کے نقصان اور بغیر گمراہ کن فتنہ کے ۱۲؎اے اللّٰه ہم کو ایمان کی زینت سے آراستہ کر ۱۳؎اور ہم کو ہدایت دینے والے ہدایت پانے والا بنا۱۴؎(نسائی )۱۵؎
شرح حدیث
۱∞؎حضرت عطاء تابعی ہیں اور ان کے والد سائب ابن یزید صحابی ہیں کہ ان کی پیدائش ۳ھ میں ہوئی ا ور حجۃ الوداع کے موقع پر آپ کی عمر سات سال تھی اپنے والد یزید کے ساتھ اس حج میں شریک ہوئے تھے۔(مرقات)
۲؎غالبًا یہ کوئی نفل نماز تھی،بعض نوافل کی جماعت اہتمام سے بھی جائز ہے جیسے نماز کسوف اور بلا اہتمام تو ہر نفل کی جماعت جائز آپ نے یا تو اس نماز کی قرأت قرآن میں اختصار کیا یا دعائیں تھوڑی مانگیں۔لمعات نے پہلی بات کو ترجیح دی اور مرقات نے دوسری کو۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ نے ارکان نماز بھی صحیح طور پر ادا نہ کیے کہ یہ صحابہ کی شان سے بعید ہے۔
۳؎اساَمَامیں شارحین نے بہت احتمال نکالے ہیں۔ظاہر تر یہ ہے کہ ہمزہ نداء قریب کا ہے اورمَانافیہ یعنی اے دوست اس اختصار میں کوئی نقصان نہیں کیونکہ میں نے وہ دعائیں پڑھ لی ہیں جن سے اس مختصر تلاوت یا چھوٹی دعاؤں کا بدلہ ہوجائے گا کہ ان کے الفاظ تھوڑے ہیں اور ثواب و فائدے زیادہ۔ظاہر یہ ہے کہ یہ دعائیں نماز کے اندر ہی مانگی تھیں،سجدے یا سلام سے پہلے قعدہ میں۔
۴؎هُوَ اَبِیسے یہاں تک کلام عطاء کا ہے یعنی میرے والد کہتے تھے کہ قوم میں سے ایک شخص حضرت عمار کے پیچھے دعا پوچھنے کے لیے گئے مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ جانے والے والد سائب ہی تھے،انہوں نے اپنا نام نہ لیا بلکہ ایک شخص کہہ دیا تاکہ اپنی بڑائی ظاہر نہ ہو۔
۵؎بعض صحابہ کی ہیبت زیادہ تھی کہ ان سے ہر شخص بات نہیں پوچھ سکتا تھا اس لیے صرف حضرت سائب نے پوچھا وہ بھی علیحدہ جا کر۔خیال رہے کہ یہ دعا تو ایک ہی ہے مگر اس میں مانگی بہت چیزیں گئی ہیں اسی لیے یہاں دعا واحد فرمایا اور وہاں دعوات جمع۔
۶؎بِعِلْمِكَمیںباستعطاف کی ہے یعنی اپنے علمِ غیب اور اپنی قدرت کے صدقہ میں مجھے یہ نعمتیں بخش۔معلوم ہوا کہ صفات الٰہی کو وسیلہ بناسکتے ہیں۔خیال رہے کہ جب تک بندہ کو نیکیوں کی توفیق ملے اور دنیا میں فتنہ نہ پھیلے اور بندہ دوسروں پر بوجھ نہ بنے تب تک تو زندگی موت سے افضل ہےاور جب ان تینوں باتوں میں سے کوئی بات فوت ہوجائے تو موت زندگی سے بہتر ہے۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ شر کی زندگی سے خیر کی موت اچھی۔شعر
وانکہ خوابش بہتر از بیداری است
زاں چناں بد زندگانی مردہ بہ
۷؎درمیا ن دعا میں باربارربّنایااللّٰہمکہنا سنت ہے،اس میں دعا کی قبولیت کی قوی امید ہے اسی طرح ہر عرض کے اول واوبولنا بھی بہتر ہے،رب تعالٰی نے فرمایا:"رَبَّنَا وَاٰتِنَا مَا وَعَدۡتَّنَا"ظاہر و باطن سے مراد یا تو علانیہ و خفیہ ہے یا قالب و قلب یعنی الٰہی مجھے ہر حال میں اپنا خوف دے خواہ لوگوں کے سامنے ہوں یاتنہائی میں یا میرا دل و جسم دونوں پر تیرا خوف ہو کہ دل میں ڈر ہو،آنکھیں تر ہوں،دل میں درد ہو،منہ میں آہ سرد ہو۔
۸؎یعنی خلق مجھ سے راضی ہو یا ناراض میں حق بات کہوں یا میں لوگوں سے راضی ہوں یا ناراض ہر حال میں حق بولوں،نہ میں حق کو چھوڑوں نہ حق مجھے چھوڑے۔
۹؎یعنی امیری غریبی میں مجھے روزی،گفتار،رفتار،خرچ وغیرہ میں درمیانی چال چلنے کی توفیق دے کہ نہ تو امیری میں فضول خرچ بن جاؤں،نہ غریبی میں ننگا بھوکا ہوجاؤں،درمیانی چال اللّٰه کی رحمت ہے جسے نصیب ہوجائے۔
۱۰؎یعنی جنت کی لازوال نعمتیں اور وہاں کی پاک بیویاں مانگتا ہوں جو آنکھ کی ٹھنڈک کا باعث ہوں یا نہ مٹنے والی مؤمن نسل یا نماز دائمی کی توفیق مانگتا ہوں،اولاد ازواج،نماز سب کچھ آنکھ کی ٹھنڈک ہیں،رب تعالٰی فرماتا ہے:"رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْیُنٍ"۔خیال رہے کہ دنیا کی ہر چیز کو فنا ہے،آخرت کی ہر چیز کو بقا۔ریا کی عبادات دنیا میں فنا ہوجائیں گی،اللّٰه کے لیے کھانا پینا بھی آخرت کا توشہ ہے اور لافانی ہے،گھڑے کا پانی فانی ہے نلکے کا پانی باقی ہے کہ مرکز سے وابستہ ہے ہم کو حضور علیہ السلام سے وابستگی چاہیے جو عزت و عظمت وغیرہ کا مرکز ہیں۔
۱۱؎یعنی برزخ و محشر میں آرام کی زندگی کا طلبگار ہوں۔
۱۲؎یعنی مجھے آخرت میں اپنا دیدار دے اور دنیا میں شوق دید نصیب کر مگر ایسا شوق دے جو مجھے سیرالی اللّٰه سے منع نہ کر دے،جذب نہیں مانگتا سلوک مانگتا ہوں۔
۱۳؎جسم کی ظاہری زینت لباس اور زیور سے ہے،دل کی زینت ایمان سے اور بدن کی حقیقی زینت نیک اعمال سے ہے،خدایا تو مجھے جسمانی و دلی زینت نصیب کر۔
۱۴؎اس طرح کہ ہم خود بھی ہدایت پر ہیں اور دوسروں کوبھی ہدایت پر رکھیں۔
۱۵؎اسے حاکم،احمد اور طبرانی نے بھی روایت کیا۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2497