Main Icon

باب:جامع دعائیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2498

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي دُبُرِ صَلَاةِ الْفَجْرِ: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا وَرِزْقًا طَيِّبًا» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيّ فِي الدَّعَوَاتِ الْكَبِيرِ

وعن أم سلمة أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يقول في دبر صلاة الفجر: «اللهم إني أسألك علما نافعا وعملا متقبلا ورزقا طيبا» . رواه أحمد وابن ماجه والبيهقي في الدعوات الكبير

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ام سلمہ سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نماز فجر کے بعد یہ کہتے تھے الٰہی میں تجھ سے نفع بخش علم، مقبول عمل اور حلال طیب روزی مانگتا ہوں ۱؎(احمد،ابن ماجہ،بیہقی دعوات کبیر)

شرح حدیث

۱∞؎علم دل کا رزق ہے عمل بدن کی معنوی روزی اور حلال رزق ان دونوں کی اصل۔حرام روزی سے نہ دل میں نور معرفت پیدا ہو،نہ اعمال میں لذت آئے۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ بغیر علم نافع کے عمل صالح کی توفیق نہیں ملتی،تم جس کا علم و عمل تو اچھا دیکھو مگر اس کی روزی حرام ہوتو اس کی مچھر کے پر برابر پرواہ نہ کرو۔عبادات خزانہ الٰہی میں محفوظ ہیں،دعا اس خزانہ کی چابی ہے اور رزق حلال اس چابی کے دانتے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ اللّٰه اس کی نماز قبول نہیں کرتا جس کے پیٹ میں حرام بھرا ہو۔خیال رہے کہ حضور علیہ الصلو ۃ والسلام کی یہ دعا بعد نماز فجر یا تو گھر میں ہوتی تھی یا مسجد میں مگر بلند آواز سے جو گھر تک پہنچ جاتی تھی یا حضرت ام سلمہ خود جماعت کی آخری صفوں میں ہوتی تھیں اس لیے آپ کی دعا سنتی تھی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2498