- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 4
- دعاؤں کا بیان
- حدیث نمبر 2488
باب:جامع دعائیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2488
دعاؤں کا بیان - جلد 4
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو يَقُولُ: «رَبِّ أَعِنِّي وَلَا تُعِنْ عَلَيَّ وَانْصُرْنِي وَلَا تَنْصُرْ عَلَيَّ وَامْكُرْ لِي وَلَا تَمْكُرْ عَلَيَّ وَاهْدِنِي وَيَسِّرِ الْهُدٰى لِي وَانْصُرْنِي عَلٰى مَنْ بَغٰى عَلَيَّ ربِّ اجعَلني لكَ شَاكِرًا لَكَ ذَاكِرًا لَكَ رَاهِبًا لَكَ مِطْوَاعًا لَكَ مُخْبِتًا إِلَيْكَ أَوَّاهًا مُنِيبًا رَبِّ تَقَبَّلْ تَوْبَتِي وَاغْسِلْ حَوْبَتِي وَأَجِبْ دَعْوَتِي وَثَبِّتْ حُجَّتِي وَسَدِّدْ لِسَانِي وَاهْدِ قَلْبِي وَاسْلُلْ سَخِيمَةَ صَدْرِي» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه
عن ابن عباس قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم يدعو يقول: «رب أعني ولا تعن علي وانصرني ولا تنصر علي وامكر لي ولا تمكر علي واهدني ويسر الهدى لي وانصرني على من بغى علي رب اجعلني لك شاكرا لك ذاكرا لك راهبا لك مطواعا لك مخبتا إليك أواها منيبا رب تقبل توبتي واغسل حوبتي وأجب دعوتي وثبت حجتي وسدد لساني واهد قلبي واسلل سخيمة صدري» . رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم دعا مانگتے تو یوں عرض کرتے یارب میری مدد کر مجھ پر مدد اوروں کو نہ دے ۱؎مجھے نصرت بخش میرے مقابل نصرت نہ دے ۲؎میرے لیے تدبیر فرما میرے مقابل تدبیر نہ فرما ۳؎مجھے ہدایت دے اور میرے لیے ہدایت آسان فرما ۴؎مجھے ان پر فتح دے جو مجھ پر بغاوت کریں ۵؎یارب مجھے اپنا شکر گزار اپنا ذاکر اپنے سے خوف کرنے والا اپنا مطیع تیری طرف رجوع کرنے والا آہ و زاری کرنے والا لوٹنے والا بنا ۶؎یارب مری توبہ قبول کر میرے گناہ دھو دے میر ی دعا قبول فرما۷؎میری دلیل مضبوط کر،میری زبان درست رکھ،میرے دل کو ہدایت دے میرے سینے کی سیاہی دور کردے ۸؎(ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ)
شرح حدیث
۱∞؎یعنی اپنے ذکر و شکر اور اچھی عبادت پر میری مدد فرما اور جن و شیاطین،نفس امارہ کو میرے مقابل مدد نہ دے کہ وہ مجھے نیک اعمال سے روکیں۔
۲؎یعنی کفار پر مجھ کو غلبہ دے،ان کو ہم پر غلبہ نہ دے،کفار خواہ انس ہوں یا جن یا ہمارے نفوس ان سب کو ہمارا مطیع بنا ہم کو ان کا فرمانبردار نہ کر بلکہ اپنا فرماں بردار رکھ۔
۳؎رب تعالٰی کے لیے مکر کے یہ ہی معنی مناسب ہیں نہ کہ فریب دھوکا،یہ عیوب ہیں رب تعالٰی عیوب سے پاک ہے یعنی مجھے دشمنوں کے مقابل خفیہ تدبیروں کی تلقین کر،انہیں میرے مقابل تدبیریں نہ القا کر۔
۴؎جس سے مجھے نیک اعمال آسان معلوم ہوں،گناہ گراں و بھاری،یہ دونوں نعمتیں رب تعالٰی ہی کے کرم سے نصیب ہوتی ہیں۔
۵؎بغاوت سرکشی کرنے والے خواہ دشمن جان ہوں یا دشمن ایمان یا دشمن مال یا دشمن آبرو۔
۶؎یہ وہ صفات ہیں جو مسلمان میں ہونی چاہیے۔راہب کے معنے ہیں ظاہر و باطن ہر حال میں رب سے ڈرنے والا دنیا میں نہ پھنسنے والا۔جس رہبانیت سے حدیث شریف میں ممانعت آئی ہے وہ بمعنی ترک دنیا ہے کہ اسلام میں تارک الدنیا ہو کر جوگی سادھو بن جانا منع ہے لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں۔مُخْبِتْکے معنے ہیں نیچی زمین میں اتر جانے والا،خبت پست زمین کو کہتے ہیں،اب اسے تواضع و ترقی کرنے والے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَاَخْبَتُوۡۤا اِلٰی رَبِّھِمْ"۔اوّاھامبالغہ کا صیغہ ہے یعنی بہت آہ و زاری کرنے والا،خو ف خدا میں کانپنے لرزنے والا، رب تعالٰی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تعریف میں فرماتا ہے:"أَوَّاهٌ مُنِيبٌ"۔
۷؎یعنی اے مولٰی مجھے تمام شرائط کی جامع توبہ نصیب فرما پھر اسے قبول بھی فرما،رب تعالٰی فرماتا ہے:"تُوۡبُوۡۤا اِلَی اللّٰه تَوْبَۃً نَّصُوۡحًا"توبہ نصوح وہ ہے جو تمام شرائط کی جامع ہو بارگاھِ عالی میں قبول ہو اور بندہ پھر توبہ کبھی توڑے نہیں۔حوبکے لغوی معنی ہیں جھڑک،ڈانٹ۔اصطلاح میں گناہ کو حوب کہتے ہیں کہ یہ جھڑک کا ذریعہ ہے۔رب تعالٰی فرماتا ہے:"اِنَّہٗ كَانَ حُوۡبًا كَبِیۡرًا" گناہ دل کا میل ہے،رب تعالٰی کی مہربانی اس کا پانی،قبولیت دعا بھی اللّٰه کی رحمت ہے،جس قدر تقویٰ زیادہ اسی قدر دعا کی قبولیت زیادہ۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ دل کی بے قراری قبول دعا کے لیے اکسیر ہے، رب تعالٰی تعالٰی فرماتا ہے:"اَمَّنۡ یُّجِیۡبُ الْمُضْطَرَّ"اس لیے مظلوم کی دعا قبول ہے اگرچہ وہ فاسق ہو کہ اس کا دل بے قرار ہے۔
۸؎ان جملوں میں چار چیزیں مانگیں:دنیا و آخرت میں اپنی دلیل قوی ہونا کہ ہم کفار کے مقابلہ میں اسلام کی حقانیت ثابت کرسکیں،زبان کا سیدھا چلنا کہ زبان اگر سیدھی چلے تو زبان ہے اور اگر ٹیڑھی چلے تو زبون یعنی فساد اور اگر زیادہ چلے تو زیان یعنی نقصان،دل کی ہدایت کہ اگر دل ٹھیک ہوگیا تو سب کچھ ٹھیک ہے اور سینہ کی صفائی تاکہ یہ مدینہ بن جائے جس میں رحمت کا خزینہ ہے۔شعر
بنا دو میرے سینہ کو مدینہ نکالو بحر غم سے یہ سفینہ
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2488