Main Icon

باب:جامع دعائیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2488

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو يَقُولُ: «رَبِّ أَعِنِّي وَلَا تُعِنْ عَلَيَّ وَانْصُرْنِي وَلَا تَنْصُرْ عَلَيَّ وَامْكُرْ لِي وَلَا تَمْكُرْ عَلَيَّ وَاهْدِنِي وَيَسِّرِ الْهُدٰى لِي وَانْصُرْنِي عَلٰى مَنْ بَغٰى عَلَيَّ ربِّ اجعَلني لكَ شَاكِرًا لَكَ ذَاكِرًا لَكَ رَاهِبًا لَكَ مِطْوَاعًا لَكَ مُخْبِتًا إِلَيْكَ أَوَّاهًا مُنِيبًا رَبِّ تَقَبَّلْ تَوْبَتِي وَاغْسِلْ حَوْبَتِي وَأَجِبْ دَعْوَتِي وَثَبِّتْ حُجَّتِي وَسَدِّدْ لِسَانِي وَاهْدِ قَلْبِي وَاسْلُلْ سَخِيمَةَ صَدْرِي» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه

عن ابن عباس قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم يدعو يقول: «رب أعني ولا تعن علي وانصرني ولا تنصر علي وامكر لي ولا تمكر علي واهدني ويسر الهدى لي وانصرني على من بغى علي رب اجعلني لك شاكرا لك ذاكرا لك راهبا لك مطواعا لك مخبتا إليك أواها منيبا رب تقبل توبتي واغسل حوبتي وأجب دعوتي وثبت حجتي وسدد لساني واهد قلبي واسلل سخيمة صدري» . رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم دعا مانگتے تو یوں عرض کرتے یارب میری مدد کر مجھ پر مدد اوروں کو نہ دے ۱؎مجھے نصرت بخش میرے مقابل نصرت نہ دے ۲؎میرے لیے تدبیر فرما میرے مقابل تدبیر نہ فرما ۳؎مجھے ہدایت دے اور میرے لیے ہدایت آسان فرما ۴؎مجھے ان پر فتح دے جو مجھ پر بغاوت کریں ۵؎یارب مجھے اپنا شکر گزار اپنا ذاکر اپنے سے خوف کرنے والا اپنا مطیع تیری طرف رجوع کرنے والا آہ و زاری کرنے والا لوٹنے والا بنا ۶؎یارب مری توبہ قبول کر میرے گناہ دھو دے میر ی دعا قبول فرما۷؎میری دلیل مضبوط کر،میری زبان درست رکھ،میرے دل کو ہدایت دے میرے سینے کی سیاہی دور کردے ۸؎(ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اپنے ذکر و شکر اور اچھی عبادت پر میری مدد فرما اور جن و شیاطین،نفس امارہ کو میرے مقابل مدد نہ دے کہ وہ مجھے نیک اعمال سے روکیں۔
۲
؎یعنی کفار پر مجھ کو غلبہ دے،ان کو ہم پر غلبہ نہ دے،کفار خواہ انس ہوں یا جن یا ہمارے نفوس ان سب کو ہمارا مطیع بنا ہم کو ان کا فرمانبردار نہ کر بلکہ اپنا فرماں بردار رکھ۔
۳
؎رب تعالٰی کے لیے مکر کے یہ ہی معنی مناسب ہیں نہ کہ فریب دھوکا،یہ عیوب ہیں رب تعالٰی عیوب سے پاک ہے یعنی مجھے دشمنوں کے مقابل خفیہ تدبیروں کی تلقین کر،انہیں میرے مقابل تدبیریں نہ القا کر۔
۴
؎جس سے مجھے نیک اعمال آسان معلوم ہوں،گناہ گراں و بھاری،یہ دونوں نعمتیں رب تعالٰی ہی کے کرم سے نصیب ہوتی ہیں۔
۵
؎بغاوت سرکشی کرنے والے خواہ دشمن جان ہوں یا دشمن ایمان یا دشمن مال یا دشمن آبرو۔
۶
؎یہ وہ صفات ہیں جو مسلمان میں ہونی چاہیے۔راہب کے معنے ہیں ظاہر و باطن ہر حال میں رب سے ڈرنے والا دنیا میں نہ پھنسنے والا۔جس رہبانیت سے حدیث شریف میں ممانعت آئی ہے وہ بمعنی ترک دنیا ہے کہ اسلام میں تارک الدنیا ہو کر جوگی سادھو بن جانا منع ہے لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں۔مُخْبِتْکے معنے ہیں نیچی زمین میں اتر جانے والا،خبت پست زمین کو کہتے ہیں،اب اسے تواضع و ترقی کرنے والے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَاَخْبَتُوۡۤا اِلٰی رَبِّھِمْاوّاھامبالغہ کا صیغہ ہے یعنی بہت آہ و زاری کرنے والا،خو ف خدا میں کانپنے لرزنے والا، رب تعالٰی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تعریف میں فرماتا ہے:"أَوَّاهٌ مُنِيبٌ
۷
؎یعنی اے مولٰی مجھے تمام شرائط کی جامع توبہ نصیب فرما پھر اسے قبول بھی فرما،رب تعالٰی فرماتا ہے:"تُوۡبُوۡۤا اِلَی اللّٰه تَوْبَۃً نَّصُوۡحًا"توبہ نصوح وہ ہے جو تمام شرائط کی جامع ہو بارگاھِ عالی میں قبول ہو اور بندہ پھر توبہ کبھی توڑے نہیں۔حوبکے لغوی معنی ہیں جھڑک،ڈانٹ۔اصطلاح میں گناہ کو حوب کہتے ہیں کہ یہ جھڑک کا ذریعہ ہے۔رب تعالٰی فرماتا ہے:"اِنَّہٗ كَانَ حُوۡبًا كَبِیۡرًا" گناہ دل کا میل ہے،رب تعالٰی کی مہربانی اس کا پانی،قبولیت دعا بھی اللّٰه کی رحمت ہے،جس قدر تقویٰ زیادہ اسی قدر دعا کی قبولیت زیادہ۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ دل کی بے قراری قبول دعا کے لیے اکسیر ہے، رب تعالٰی تعالٰی فرماتا ہے:"اَمَّنۡ یُّجِیۡبُ الْمُضْطَرَّ"اس لیے مظلوم کی دعا قبول ہے اگرچہ وہ فاسق ہو کہ اس کا دل بے قرار ہے۔
۸
؎ان جملوں میں چار چیزیں مانگیں:دنیا و آخرت میں اپنی دلیل قوی ہونا کہ ہم کفار کے مقابلہ میں اسلام کی حقانیت ثابت کرسکیں،زبان کا سیدھا چلنا کہ زبان اگر سیدھی چلے تو زبان ہے اور اگر ٹیڑھی چلے تو زبون یعنی فساد اور اگر زیادہ چلے تو زیان یعنی نقصان،دل کی ہدایت کہ اگر دل ٹھیک ہوگیا تو سب کچھ ٹھیک ہے اور سینہ کی صفائی تاکہ یہ مدینہ بن جائے جس میں رحمت کا خزینہ ہے۔شعر
بنا دو میرے سینہ کو مدینہ نکالو بحر غم سے یہ سفینہ

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2488