Main Icon

باب:جامع دعائیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2502

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَدْ خَفَتَ فَصَارَ مِثْلَ الْفَرْخِ فَقَالَ لَهٗ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ كُنْتَ تَدْعُو اللّٰه بِشَيْءٍ أَوْ تَسْأَلُهٗ إِيَّاهُ؟» . قَالَ: نَعَمْ كُنْتُ أَقُولُ: اَللّٰهُمَّ مَا كُنْتَ مُعَاقِبِي بِهٖ فِي الْآخِرَةِ فَعَجِّلْهُ لِي فِي الدُّنْيَا. فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سُبْحَانَ اللّٰهِ لَا تُطِيقُهٗ وَلَا تَسْتَطِيعُهٗ أَفَلَا قُلْتَ: اَللّٰهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ ". قَالَ: فَدَعَا اللهَ بِهٖ فَشَفَاهُ اللهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أنس: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم عاد رجلا من المسلمين قد خفت فصار مثل الفرخ فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: «هل كنت تدعو الله بشيء أو تسأله إياه؟» . قال: نعم كنت أقول: اللهم ما كنت معاقبي به في الآخرة فعجله لي في الدنيا. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " سبحان الله لا تطيقه ولا تستطيعه أفلا قلت: اللهم آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار ". قال: فدعا الله به فشفاه الله. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ایک مسلمان کی بیمار پرسی فرمائی جو بہت کمزور ہوگیا تھا ۱؎کہ چوزہ کی طرح ہوگیا تھا اس سے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ کیا تو اللّٰه سے کوئی خاص دعا کرتا تھا یا کوئی مانگتا تھا ۲؎وہ بولا میں یہ کہتا تھا الٰہی تو جو سزا مجھے آخرت میں دینے والا ہو وہ مجھے دنیا میں ہی دے دے ۳؎تب اس سے رسول اللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایاسُبْحَانَ اللّٰهِتو اس کی طاقت اور قدرت نہیں رکھتا ۴؎تو نے یہ کیوں نہ کہا خدایا ہمیں دنیا میں بھلائی دے اور آخرت میں بھلائی دے اور ہم کو آگ کے عذاب سے بچالے ۵؎فرماتے ہیں اس نے اللّٰه سے یہ ہی دعا مانگی تو اللّٰه نے اسے شفا بخشی۶؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎خِفَۃٌکے معنی ہیں کمزور آواز جو بمشکل سنائی دے،اہل عرب کہتے ہیںخِفَتِ الْمَیِّتُمرنے والا خاموش ہوگیا یعنی وہ بیمار بوجہ کمزوری کے ضعیف الآواز والا ہوگیا تھا جس سے بطور لزوم اس کی کمزوری جسم بھی معلوم ہوگئی لہذا اگلا کلام اس سے پورا ربط رکھتا ہے۔
۲
؎یہاں راوی کو شک ہو اکہ حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے یا تو یہ فرمایا کہ تو خاص چیز مانگتا تھا۔خیال رہے کہ اللّٰه تعالٰی نے اپنے حبیب صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو لوگوں کا حکیم مطلق بنا کر بھیجا،حضور علیہ الصلوۃ والسلام ہمارے ظاہری و باطنی امراض اور ان کے اسباب جانتے ہیں۔
۳
؎ان صحابی کی یہ عرض و معروض خو ف آخرت اور خوف عذاب کی بنا پر ہے وہ سمجھے یہ تھے کہ گناہوں پر سزا ضرور ملتی ہے،اگر آخرت میں ملی تو سخت اور دیرپا ہوگی اور اگر دنیا میں ملی تو ہلکی اور عارضی ہوگی کہ موت ہر مصیبت کی انتہا ہے۔ان کی نظر اللّٰه کی معافی کی طر ف نہ گئی۔معلوم ہوا کہ ہمیں تو رب تعالٰی سے مانگنا بھی نہیں آتا جب تک کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نہ سکھائیں۔
۴
؎یعنی نہ تو تو دنیا کے عذاب کی طاقت رکھتا ہے اور نہ آخرت کے عذاب کی لہذا یہ کلمہ ممکن نہیں اگرچہ خطاب ان صاحب ہی سے ہے مگر روئے سخن سب کی طر ف ہے یعنی ساری مخلوق اس کے عذاب کی طاقت نہیں رکھتی وہ اپنا کرم ہی کرے۔
۵
؎اس دعا کی شرح پہلے کی جاچکی ہے۔ظاہر یہ ہے کہ یہاں بھلائی سے مراد گناہوں کی معافی،نعمتوں کی عطاء اور دونوں جہاں کی عافیت و امان ہے۔
۶
؎یا تو اس دعا ہی کی برکت سے بغیر دوا شفا دی یا کسی دوا کے ذریعہ۔صحیح دوا کا میسر آنا اور اس کی تاثیر رب تعالٰی کے کرم سے ہے،دوسرے معنے مرقات نے اختیار فرمائے مگر پہلے معنی زیادہ قوی ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2502