Main Icon

باب:جامع دعائیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2487

دعاؤں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَن أنسٍ قَالَ: كَانَ أَكْثَرُ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «اَللّٰهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أنس قال: كان أكثر دعاء النبي صلى الله عليه وسلم «اللهم آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی زیادہ دعا یہ تھی ۱؎الٰہی ہم کو دنیا میں بھلائی دے ۲؎اور آخرت میں بھلائی دے اور ہمیں آگ سے بچالے (مسلم،بخاری)۳؎

شرح حدیث

۱∞؎کہ آپ نماز کے اندر اور دعا بعد نماز میں اور اس کے علاوہ اکثر حالات میں یہ دعا مانگا کرتے تھے۔
۲
؎یہ دعا بہت ہی جامع ہے جس میں دین و دنیا کی ساری نعمتیں مانگی گئی ہیں،رب تعالٰی نے قرآن کریم میں بھی یہ دعا سکھا کر اس کے مانگنے والوں کے متعلق فرمایا:"اُولٰٓئِكَ لَهُمْ نَصِیۡبٌ مِّمَّاكَسَبُوۡا"الایہ۔قرآن شریف میں اس دعا اور استغفار کے بڑے فوائد بیان فرمائے۔مطلب یہ ہے کہ اے ہمارے پالنے والے ہم کو موت سے پہلے والی تمام نعمتیں عطا فرماجیسے صحت،روزی،نیکیوں کی توفیق،دین پر استقامت،حسنِ خاتمہ،علم و عمل وغیر ہ اور آخرت کی تمام نعمتیں بخش جیسے حساب قبر و حشر میں آسانی و کامیابی،اعمال کی قبولیت،جنت اور وہاں کی تمام نعمتیں اور ہم کو دوزخ سے بالکل بچالے کہ وہاں کا عذاب ہم کو بالکل نہ چھوئے یہ نہ ہو کہ سزا پا کر جنت میں جائیں۔حضرت شیخ نے اشعۃ اللمعات میں فرمایا کہ اس کے مانگتے وقت تمام نیکیوں و نعمتوں کا خیال کرلینا چاہیے۔بہتر یہ ہے کہ دنیا کی نعمت سے کمال مصطفوی اور آخرت کی بھلائی سے جمال مصطفوی مراد لے،یعنی ہم کو دنیا میں ان کے کمال کا چھینٹا دے،آخرت میں ان کا جمال دکھا کہ ان میں سب کچھ آگیا۔
۳
؎اسے ابوداؤد،نسائی نے بھی روایت کیا۔حصن حصین شریف میںرَبَّنَا اٰتِنَاہے اگراَللّٰهُمَّ رَبَّنَا اٰتِنَاکہے تو بہتر ہے کہ اس میں دونوں روایتوں پر عمل ہے اور اگر فقطرَبَّنَا اٰتِنَاکہے تو بھی ٹھیک ہے کہ قرآن کریم میں یوں ہی ہے۔(ازمرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2487