Main Icon

باب: کس چیز میں زکوۃ واجب ہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1814

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ طَاوُسٍ: أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أُتِيَ بِوَقَصِ الْبَقَرِ فَقَالَ: لَمْ يَأْمُرْنِي فِيهِ النَّبِيُّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- بِشَيْءٍ. رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيُّ وَالشَّافِعِيُّ، وَقَالَ: الْوَقَصُ: مَا لَمْ يَبْلُغِ الْفَرِيضَةَ.

وعن طاوس: أن معاذ بن جبل أتي بوقص البقر فقال: لم يأمرني فيه النبي -صلی اللہ عليه وسلم- بشيء. رواه الدارقطني والشافعي، وقال: الوقص: ما لم يبلغ الفريضة.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت طاؤس سے کہ حضرت معاذ ابن جبل کے پاس نصاب سے کم گائیں لائیں گئیں تو آپ نے فرمایا کہ مجھے اس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی حکم نہیں دیا ۱؎ (دارقطنی،شافعی) اور امام شافعی نے فرمایا کہ وقص وہ عدد ہے کہ نصاب کو نہ پہنچے ۲؎

شرح حدیث

۱؎ کیونکہ وجوب زکوۃ کے لیے مال کا بقدر نصاب ہونا شرط ہے اونٹ کا نصاب پانچ ہے،گائے کا تیس،بکریوں کا چالیس،اس کا ذکرپہلے ذکر ہوچکا۔
۲؎ اول ہی سے نصاب کو نہ پہنچے وہ بھی وقص ہے اور دو نصابوں کے درمیان کی کسر بھی وقص ہے،یہاں پہلی صورت مراد ہے کیونکہ انہوں نے اس کی بالکل زکوۃ نہ لی۔(مرقات و اشعہ وغیرہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1814