Main Icon

باب: کس چیز میں زکوۃ واجب ہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1805

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ حَدَّثَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- كَانَ يَقُولُ: "إِذَا خَرَصْتُمْ فَخُذُوا وَدَعُوا الثُّلُثَ،فَإِنْ لَمْ تَدَعُوا الثُّلُثَ فَدَعُوا الرُّبُعَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأبو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.

وعن سهل بن أبي حثمة حدث أن رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم- كان يقول: "إذا خرصتم فخذوا ودعوا الثلث،فإن لم تدعوا الثلث فدعوا الربع". رواه الترمذي وأبو داود والنسائي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سہل ابن ابی حثمہ سے انہوں نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے تھے کہ جب تم اندازہ لگاؤ تو تہائی چھوڑ دو اگر تہائی نہ چھوڑو تو چوتھائی تو ضرور چھوڑ دو ا؎ (ترمذی،ابوداؤد،نسائی)

شرح حدیث

۱؎ یہ حکام کو حکم ہے یعنی اے حاکمو!جب تم باغوں یا کھیتوں میں زکوۃ لینے جاؤ تو خودبھی اور دوسرے واقف کاروں کی مدد سے بھی اندازہ لگاؤ کہ اس میں کل پھل یا دانہ کتنا ہے،اس کی زکوۃ کا حساب لگاؤ اور تہائی یا چوتھائی زکوۃ چھوڑ دو تاکہ وہ مالک خود اپنے ہاتھ سے اپنے غریب قرابت داروں وغیرہ کو دے اور دو تہائی یا تین چوتھائی خود لے آؤ۔خیال رہے کہ امام شافعی و ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہما کے نزدیک یہ حکم خراج میں ہے زکوۃ پوری عامل وصول کرے گا،ان کے ہاں یہ حکم خیبر کے حکام کو تھا جو خیبر کے یہودیوں سے پیداوار کا نصف وصول کرنے جاتے تھے کیونکہ ان لوگوں سے اس پر صلح ہوئی تھی کہ پیداوار کا آدھا تمہارا ہوگا اور آدھا مسلمانوں کا،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ازروئے کرم حکم دیا کہ اپنے اندازے سے کچھ کم کرکے اس کا آدھا لو تاکہ ہماری طرف ان کا حق نہ آجائے ہمارا ان کی طرف رہ جائے تو حرج نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1805