Main Icon

باب: کس چیز میں زکوۃ واجب ہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1795

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ صَدَقَةٌ فِي عَبْدِهِ، وَلَا فِي فَرَسِهِ"، وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: "لَيْسَ فِي عَبْدِهِ صَدَقَةٌ إِلَّا صَدَقَةُ الْفِطْرِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلی اللہ عليه وسلم: "ليس على المسلم صدقة في عبده، ولا في فرسه"، وفي رواية قال: "ليس في عبده صدقة إلا صدقة الفطر". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ
علیہ وسلم نے کہ مسلمان پر ۱؎ نہ تو اس کے غلام میں صدقہ واجب ہے نہ اس کے گھوڑے میں اور ایک روایت میں ہے کہ فرمایا اس کے غلام میں زکوۃ تو نہیں مگر صدقہ فطر واجب ہے ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎مسلمان کی قید سے معلوم ہوتاہے کہ کفار پر زکوۃ فرض نہیں اسی لیے کوئی کافر مسلمان ہوجانے پر زمانہ کفر کی نہ نمازیں قضا کرتا ہے نہ زکوۃ دیتا ہے،ہاں قیامت میں کفار کو عبادات نہ کرنے کی بھی سزا ملے گی،رب تعالٰی فرماتا ہے کہ دوزخی کہیں گے"قَالُوۡا لَمْ نَکُ مِنَ الْمُصَلِّیۡنَ"الخ لہذا حدیث و قرآن میں تعارض نہیں۔
۲
؎تجارتی گھوڑوں اور غلاموں میں تمام اماموں کے نزدیک زکوۃ ہے اور سواری کے گھوڑے اور خدمت کے غلام میں کسی کے ہاں زکوۃ نہیں ہاں جو گھوڑے سواری و تجارت دونوں کے لیے نہ ہوں ان کی مادہ میں امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک زکوۃ ہے کہ مالک یا تو فی گھوڑی ایک اشرفی دے دے یا اس کی قیمت کا چالیسواں حصہ نکال دے لہذا یہ حدیث امام اعظم کے خلاف نہیں کیونکہ یہاں سواری کا گھوڑا اور خدمت کا غلام مراد ہے۔فتاوی قاضی خاں میں ہے کہ گھوڑے اور غلام میں صاحبین کے مذہب پر فتویٰ ہے کہ ان میں زکوۃ نہیں اسی طرح مرقات میں ہے۔خیال رہے کہ خدمت کے غلام کا فطرہ مالک پر واجب ہے اس کی زکوۃ نہیں،نوکر چاکروں کا فطرہ آقا پر نہیں کیونکہ یہ اس کے غلام نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1795