Main Icon

باب: کس چیز میں زکوۃ واجب ہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1812

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- أَقْطَعَ لِبِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُزَنيِّ مَعَادِنَ الْقَبَلِيَّةِ، وَهِيَ مِنْ ناحِيَةِ الْفُرْعِ، فَتِلْكَ الْمَعَادِنُ لَا تُؤْخَذُ مِنْهَا إِلَّا الزَّكَاةُ إِلَى الْيَوْمِ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

وعن ربيعة بن أبي عبد الرحمن عن غير واحد: أن رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم- أقطع لبلال بن الحارث المزني معادن القبلية، وهي من ناحية الفرع، فتلك المعادن لا تؤخذ منها إلا الزكاة إلى اليوم. رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ربیعہ ابن ابی عبدالرحمن سے وہ چند راویوں سے راوی ۱؎ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال ابن حارث مزنی کو ۲؎ قبیلہ کی کانیں جاگیر دیں۳؎ قبیلہ مقام فرع کے اطراف میں واقع ہے تو ان کانوں سے آج تک زکوۃ کے سوا کچھ نہیں لیا جاتا ہے ۴؎ (ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی حضرت ربیعہ ابن ابی عبدالرحمن نے جو بڑے مشہور تابعی ہیں جن کا لقب ربیعہ رائے ہے بہت سے صحابہ سے یہ حدیث نقل فرمائی۔
۲
؎بلال ابن حارث صحابی ہیں،مزنیہ کے وفد میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہو کر اسلام لائے،اسی۸۰ سال عمر پائی، ۶۰ھ میں وفات ہوئی۔
۳
؎یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان بلال کو مقام فرع کے پاس جو مکہ و مدینہ منورہ کے درمیان ایک جگہ ہے مدینہ منورہ سے پانچ منزل پر ہے وہاں نمک کی کانیں تھیں عطا فرمائیں بطریق معانی جاگیر کہ وہاں سے سونا چاندی نکالیں اور اپنا گزارہ کریں،قیل بھی ایک جگہ کا نام ہے۔معلوم ہوا کہ بادشاہ اسلام کسی کو کوئی زمین بطور جاگیر دے سکتا ہے۔
۴
؎یعنی کان سے نکلنے والی دھات میں پانچواں حصہ واجب ہوتا ہے(خمس)مگر ان کانوں کے سونے چاندی میں خمس واجب نہیں ہوا بلکہ زکوۃ یعنی چالیسواں حصہ واجب ہوا۔خیال رہے کہ حضرت امام شافعی کے ہاں جاگیر کی کان سے جو برآمد ہو اس میں چالیسواں حصہ واجب ہے مگر امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک خمس ہی واجب ہے۔ امام شافعی کی دلیل یہ حدیث ہے،حضرت امام اعظم کی دلیل وہ گزشتہ حدیث کہ
"
وَفِي الرِّکَازِ الْخُمُسُ"یہ حدیث منقطع ہے لہذا اس سے دلیل نہیں پکڑ ی جاسکتی۔(مرقات)یا یہ حضرت بلال کی خصوصیات سے ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1812