Main Icon

باب: کس چیز میں زکوۃ واجب ہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1798

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "الْعَجْمَاءُ جُرْحُهَا جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "العجماء جرحها جبار، والبئر جبار، والمعدن جبار، وفي الركاز الخمس". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جانوروں کا زخم باطل ہے ۱؎ اور کنواں باطل ہے اور کان باطل ہے ۲؎ اور کان میں پانچواں حصہ ہے ۳؎ (مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اگر کسی کا کوئی جانور گھوڑا،گائے،بھینس بدک کر مالک سے چھوٹ جائے اورکسی کو زخمی کردے تو مالک پر اس زخم کا قصاص یا تاوان نہ ہوگا کیونکہ یہاں مالک بےقصور ہے ہاں اگر مالک کی غفلت یا اس کے قصور سے جانور نے کسی کو جانی یا مالی نقصان پہنچایا تو مالک ذمہ دار ہے جیسے کوئی اپنا کٹ کھنا کتا دن میں کھلا چھوڑے اور وہ کسی کو زخمی کردے یا کسی کا جانور ماردے۔ان شاءاللهاس کی پوری تحقیقکِتَابُ الْقِصَاصْمیں آئے گی۔
۲
؎یعنی اگر کوئی شخص کسی کے کنوئیں یا کان میں گر کر مرجائے تو کنویں اور کان والے پر ضمان نہیں کہ وہ بےقصور ہے،ہاں اگر کوئی شخص راستہ میں کنواں یا گڑھا کھود دے جس میں کوئی گر کر مرجائےتو اب یہ ذمہ دار ہے کیونکہ مجرم ہے۔
۳
؎یعنی اگر کسی کی زمین میں سونے چاندی یا کسی دھات کی قدرتی کان نکل آئے وہ پانچواں حصہ حکومت اسلامیہ کو دے گا اور چار حصہ اپنے خرچ میں لائے گا۔خیال رہے کہرِکَازْ رِکْزٌسے بنا جس کے معنے ہیں چھپنا یا خفیہ ہونا اسی لیے پاؤں کی آہٹ کورکزکہتے ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"اَوْ تَسْمَعُ لَہُمْ رِکْزًا"۔جانور کے لات مار دینے کوبھیرِکْزْکہتے ہیں۔اصطلاح میںرِکْزْکان کو بھی کہتے ہیں اور دفینہ یعنی گاڑھے ہوئے خزانہ کو بھی۔امام اعظم ابوحنیفہ کے ہاںرِکَازْسے کان مراد ہے اور امام شافعی کے ہاں دفینہ،امام اعظم کی دلیل وہ حدیث ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیارِکَازْکیا چیز ہے تو آپ نے فرمایا کہ وہ سونا جسے رب تعالٰی نے زمین میں قدرتی پیدا فرمایا۔
(
بیہقی عن ابی ھریرہ)نیز یہاں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نےرِکَازْکا ذکر معدن کے ساتھ کیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بھی معدن ہی ہے۔مرقات نے فرمایا کہ کان سے بعض چیزیں گل جانے والی پیدا ہوتی ہیں جیسے سونا چاندی،لوہا اورباقی دھاتیں اور بعض پتلی جیسے پانی،تیل اور تار کول اور بعض چیزیں خشک نہ گلنے والی جیسے چونا، ہڑتال،ہر قسم کے پتھر،یاقوت،نمک وغیرہ۔امام اعظم کے ہاں صرف دھاتوں میں خمس واجب ہے اور امام شافعی کے ہاں صرف سونے چاندی میں،وہ باقی دھاتوں کو شکار کے جانور کی مثل مانتے ہیں جس کو مل جائے اسی کی۔(لمعات،مرقات،اشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1798