Main Icon

باب: کس چیز میں زکوۃ واجب ہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1797

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ: "فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالْعُيُونُ أَوْ كَانَ عَثَرِيًّا الْعُشْرُ، وَمَا سُقِيَ بِالنَّضْحِ نِصْفُ الْعُشْرِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

وعن عبد الله ابن عمر عن النبي -صلی اللہ عليه وسلم- قال: "فيما سقت السماء والعيون أو كان عثريا العشر، وما سقي بالنضح نصف العشر". رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عمر سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی کہ حضور نے فرمایا اس زمین میں جسے آسمان یا چشمے سیراب کریں یا ہو فارغ ۱؎ اس میں دسواں حصہ ہے اور جسے پانی کھینچ کر سیراب کیا جائے اس میں بیسواں حصہ ہے ۲؎ (بخاری)

شرح حدیث

۱؎ عربی میں عثرٰی وہ زمین کہلاتی ہے جو پانی سے قریب ہونے کی وجہ سے خود بخود تر رہتی ہو اور اس کا مالک اسے پانی دینے سے فارغ ہو۔حدیث شریف میں ہے کہ عثری آدمی برا ہے یعنی جو دین و دنیا سے فارغ ہو کر کچھ کام نہ کرے وہ بُرا ہے۔(ازمرقات و اشعہ)نیز جس درخت کی جڑیں گہرائی میں پہنچ کر زمین کی قدرتی تری خود لے لیں اسے بھی عثریٰ کہتے ہیں۔
۲؎ خلاصہ یہ ہے کہ جس کھیت میں پانی دینے پر مالک کا خرچ ہو اس کی زکوۃ بیسواں حصہ ہے ورنہ دسواں۔ کھینچنے میں کنوئیں سے، نہر سے،دریا سے کھینچنا سب شامل ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1797