Main Icon

باب: کس چیز میں زکوۃ واجب ہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1804

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَتَّابِ بْنِ أَسِيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ فِي زَكَاةِ الْكُرُوْمِ : "إِنَّهَا تُخْرَصُ كَمَا تُخْرَصُ النَّخْلُ، ثُمَّ تُؤَدَّى زَكَاتُهٗ زَبِيبًا، كَمَا تُؤَدَّى زَكَاةُ النَّخْلِ تَمْرًا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ.

وعن عتاب بن أسيد أن النبي -صلی اللہ عليه وسلم- قال في زكاة الكروم : "إنها تخرص كما تخرص النخل، ثم تؤدى زكاته زبيبا، كما تؤدى زكاة النخل تمرا". رواه الترمذي وأبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عتاب ابن اسید سے ۱؎ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگور کی زکوۃ کے بارے میں فرمایا کہ اس کا یوں ہی انداز ہ لگایا جائے جیسے کھجور کا لگایا جاتا ہے پھر اس کی کشمش سے یوں ہی زکوۃ دی جائے جیسے کھجور سے چھوہاروں کی دی جاتی ہے۲؎(ترمذی و ابوداؤد)

شرح حدیث

۱؎ آپ قرشی ہیں،اموی ہیں،فتح مکہ کے دن ایمان لائے اور آپ کو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کا حاکم بنایا،صدیق اکبر نے اپنی خلافت میں آپ کو اس عہدہ پر بحال رکھا،صدیق اکبر کی وفات کے دن آپ کی مکہ مکرمہ میں وفات ہوئی،وہیں دفن ہوئے،کل پچیس سال عمر پائی،بڑے صالح متقی تھے۔
۲؎ حدیث بالکل ظاہر ہے کہ انگور کے باغ کا مالک سارے انگور توڑ کر وزن کرکے زکوۃ نہ نکالے بلکہ پہلے تو یہ اندازہ لگائے کہ کل پھل کتنا ہوگا،پھر یہ کہ کشمش ہوکر کتنا رہے گا اس کا دسواں یا بیسواں حصہ زکوۃ نکالے،چونکہ خیبر پہلے ۷ ہجری میں فتح ہوچکا تھا جہاں کھجور کے باغات ہیں وہاں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ ابن رواحہ کو اندازہ لگانے کے لیے بھیجاتھا اور طائف بعد میں فتح ہوا جہاں انگور کے باغات بکثرت تھے اس لیے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے انگور کی زکوۃ کو کھجور کی زکوۃ سے تشبیہ دی۔(ازمرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1804