Main Icon

باب: کس چیز میں زکوۃ واجب ہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1800

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُعَاذٍ: أَنَّ النَّبِيَّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- لَمَّا وَجَّهَهٗ إِلَى الْيَمَنِ أَمْرَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنَ الْبَقَرَةِ مِنْ كُلِّ ثَلَاثِيْنَ تَبِيعًا أَوْ تَبِيعَةً، وَمِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ مُسِنَّةً. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارِمِيُّ

وعن معاذ: أن النبي -صلی اللہ عليه وسلم- لما وجهه إلى اليمن أمره أن يأخذ من البقرة من كل ثلاثين تبيعا أو تبيعة، ومن كل أربعين مسنة. رواه أبو داود والترمذي والنسائي والدارمي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت معاذ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں یمن میں بھیجا ۱؎ تو حکم دیا کہ گائے میں ہرتیس سے ایک سالہ نر یا مادہ وصول کریں اور ہر چالیس سے دو سالہ۲؎ (ابو داؤد،ترمذی،نسائی،دارمی)

شرح حدیث

۱؎ وہاں کا حاکم بناکر،چونکہ اس زمانہ میں اسلامی حکام لوگوں کے ظاہری مال یعنی جانوروں اور زمینوں کی زکوۃ بھی وصول کرتے تھے جو بعد میں اپنے مصرف پر بہت احتیاط سے خرچ کردی جاتی تھی اس لیے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ تلقین فرمائی۔
۲؎ بقر کے معنی ہیں چیرنا پھاڑنا،چونکہ بیل زمین میں ہل چلاتے ہیں جن سے زمین چر جاتی ہے اس لیے اسے بقر کہتے ہیں،بقرہ میں تا تانیث کی نہیں،وحدۃ نوعی یا صنفی کی ہے لہذا یہ لفظ بیل پر بولا جاتا ہے،چونکہ عرب میں بھینس نہیں ہوتی اس لیے ان کا ذکر نہ فرمایا ورنہ بھینس کی زکوۃ بھی گائے کی طرح ہے۔خلاصہ یہ کہ گائے بھینس کا نصاب تیس ہے تیس میں ایک سال کا بچھڑا یا بچھڑی واجب ہے،پھر چایس تک زکوۃ نہ بڑھے گی اور چالیس میں دوسالہ بچھڑا یا بچھڑی واجب،ساٹھ میں دو تبیعے اور ستر میں ایک تبیعہ اور ایک مسنہ۔غرضکہ ہرتیس پر تبیعہ واجب ہوتا رہے گا(یکسالہ)اور ہر چالیس پر مسنہ(دو سالہ)چالیس کے بعد ساٹھ سے کم میں بہت اختلاف ہے،صاحبین کے ہاں اس زیادتی سے زکوۃ نہ بڑھے گی،امام اعظم سے اس میں تین روایتیں ہیں۔اس کی تحقیق ہدایہ کی شرح میں دیکھو،یہ حدیث اگرچہ منقطع ہے کیونکہ اس میں مسروق نے حضرت معاذ سے روایت کی مگر انہوں نے معاذ سے ملاقات نہیں کی لیکن چونکہ بہت احادیث سے اسے تقویت پہنچ چکی ہے اس لیے قابل عمل ہے اسی لیے ترمذی نے اسے احسن فرمایا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1800