Main Icon

باب: کس چیز میں زکوۃ واجب ہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1806

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَبْعَثُ عَبْدَ اللّٰهِ ابْنَ رَوَاحَةَ إِلَى يَهُودٍ فَيَخْرُصُ النَّخْلَ حِينَ يَطِيبُ، قَبْلَ أَنْ يُؤْكَلَ مِنْهُ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

وعن عائشة قالت: كان النبي -صلی اللہ عليه وسلم- يبعث عبد الله ابن رواحة إلى يهود فيخرص النخل حين يطيب، قبل أن يؤكل منه. رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عبد اللہ ابن رواحہ کو ۱؎ یہود(خیبر)کی طرف بھیجتے تھے تو وہ کھجوروں کا اندازہ لگاتے تھے پکنے کے وقت کھائے جانے سے پہلے ۲؎ (ابوداؤد)۳؎

شرح حدیث

۱؎ آپ کے حالات پہلے بیان ہوچکے کہ آپ مشہور صحابی ہیں،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے شاعر ہیں،غزوہ موتی میں شہید ہوئے، آپ کے ذمہ وہ خدمت تھی جو آگے آرہی ہے۔
۲؎ گزشتہ حدیث میں عرض کیا گیا کہ یہودخیبر سے اس بات پر صلح ہوئی تھی کہ کھجوروں کے باغات مسلمانوں کے ہوں گے اور محنت ان یہود کی،پیداوار آدھی آدھی،حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھل پکنے کے وقت حضرت عبد اللہ ابن رواحہ کو اندازہ لگانے کے لیے خیبر بھیجتے تھے کیونکہ وہ اندازہ لگانے میں ماہر تھے۔چنانچہ آپ ان یہود سے فرمادیا کرتے تھے کہ اس باغ میں اتنے پھل ہیں تم یا اس کے آدھے پھل ہم سے لے لو اور باغ ہمیں چھوڑ دو یا آدھے پھل ہمیں دے دو اور باغ تمہارا اس فیصلہ پر یہود بہت خوش ہوتے اور کہتے تھے کہ یہ وہ عدل ہے جس سے آسمان و زمین قائم ہیں،مسلمانوں کے عدل و انصاف کے کفار بھی قائل تھے۔
۳؎ یہ حدیث ابوداؤد میں دو جگہ آئی ہے کتاب الزکوۃ میں اور کتاب البیوع میں،پہلی کی اسناد میں ایک مجہول شخص ہے، دوسری کی اسناد میں جو حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے ہے،تمام راوی ثقہ ہیں لہذا یہ حدیث حسن لغیرہٖ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1806