Main Icon

باب: کس چیز میں زکوۃ واجب ہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1813

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ عَلِيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ: "لَيْسَ فِي الْخَضْرَاوَاتِ صَدَقَةٌ، وَلَا فِي الْعَرَايَا صَدَقَةٌ، وَلَا فِي أَقَلَّ مِنْ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ، وَلَا فِي الْعَوَامِلِ صَدَقَةٌ، وَلَا فِي الْجَبْهَةِ صَدَقَةٌ"، قَالَ الصَّقْرُ: الْجَبْهَةُ الْخَيْلُ وَالْبِغَالُ وَالْعَبِيدُ. رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيُّ.

عن علي أن النبي -صلی اللہ عليه وسلم- قال: "ليس في الخضراوات صدقة، ولا في العرايا صدقة، ولا في أقل من خمسة أوسق صدقة، ولا في العوامل صدقة، ولا في الجبهة صدقة"، قال الصقر: الجبهة الخيل والبغال والعبيد. رواه الدارقطني.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہ تو سبزیوں میں زکوۃ ۱؎ ہے اور نہ عرایا(عاریۃً)میں ۲؎ اور نہ پانچ وسق سے کم میں زکوۃ ۳؎ ہے نہ کام کاج کے جانوروں میں زکوۃ ہے ۴؎ اور نہ پیشانیوں میں،امام صقر نے فرمایا کہ پیشانی سے مراد گھوڑے اور خچر اور غلام ہیں ۵؎ (دارقطنی)

شرح حدیث

۱؎ امام اعظم کے نزدیک سبزیوں میں عشر یا بیسواں حصہ ہے،صاحبین کے ہاں نہیں،یہ حدیث صاحبین کی دلیل ہے،امام اعظم قدس سرہ کے ہاں اس سے زکوۃ تجارت مراد ہے،اس کی بحث پہلے ہوچکی۔سبزیوں سے مراد تمام نہ ٹھہرنے والی چیزیں ہیں جیسے ترکاریاں،پھول،بینگن،کدو وغیرہ۔
۲؎ عرایا عریہ کی جمع ہے۔عریہ وہ درخت ہے جوکسی کو ایک دو فصلوں کے لیے عاریۃً دے دیا جاوے کہ وہ اس کے پھل کھایاکرے،اصل درخت مالک کا ہو،کبھی کسی سے خشک کھجوریں لےکر اس کے عوض درخت کی تر کھجوریں دے دیتے ہیں اسے بھی عریہ کہا جاتاہے۔اس کی پوری بحث کتاب البیوع میں ہوگی ان شاءاللہ۔
۳؎ اس کی بحث پہلے ہو چکی کہ امام اعظم کے نزدیک یہاں زکوۃ سے تجارتی زکوۃ مراد ہے،چونکہ اس زمانہ میں ایک وسق چالیس درہم کا ہوتا تھا تو پانچ وسق دوسو درہم کے ہوئے اس لیے یہ ارشاد ہوا ورنہ پیداوار کی زکوۃ ہر تھوڑی بہت پر ہوگی۔دلائل اسی باب میں ابھی کچھ پہلے عرض کئے گئے۔
۴؎ یعنی کام کاج کے اونٹ گایوں وغیرہ میں زکوۃ نہیں کیونکہ یہ تجارتی مال نہیں اسی طرح علوفہ یعنی گھر کا چارہ کھانے والے جانوروں میں زکوۃ واجب نہیں،یہ مسئلہ بھی پہلے گزر چکا۔
۵؎ کہ جب یہ تجارت کے لیے نہ ہوں خدمت کے لیے ہوں تو ان میں زکوۃ نہیں،ہاں اس غلام کا فطرہ آقا پر واجب ہوگا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1813