Main Icon

باب: کس چیز میں زکوۃ واجب ہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1807

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "فِي الْعَسَلِ فِي كُلِّ عَشْرَةِ أَزُقِّ زِقٌّ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: فِي إِسْنَادِهِ مَقَالٌ، وَلَا يَصِحُّ عَنِ النَّبِيِّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فِي هَذَا الْبَابِ كَثِيرُ شَيْءٍ.

وعن ابن عمر قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "في العسل في كل عشرة أزق زق". رواه الترمذي وقال: في إسناده مقال، ولا يصح عن النبي -صلی اللہ عليه وسلم- في هذا الباب كثير شيء.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہد کے بارے میں کہ ہر دس مشک میں ایک مشک ہے ۱؎ (ترمذی)اور فرمایا کہ اس کی اسناد میں کلام ہے اور اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ زیادہ منقول نہیں ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎شہد کی زکوۃ کا مسئلہ بڑے معرکہ کا ہے،تین اماموں کے ہاں اس میں زکوۃ نہیں،امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے ہاں اس میں زکوۃ ہے،پھر اس کے نصاب کے بارے میں خود امام صاحب سے کئی روایتیں ہیں:ایک یہ کہ اگر شہد عشری زمین سے حاصل ہوا تو اس میں مطلقًا زکوۃ ہے تھوڑا ہو یا زیادہ کیونکہ سرکار فرماتے ہیں"مَااَخْرَجَتْہُ الْاَرْضُ فَفِیْہِ الْعُشْرُ"اور ایک روایت میں یہ ہے کہ شہد کی قیمت پر زکوۃ ہے،ایک روایت یہ ہے کہ اگر دس مشکیزے ہوں تو ایک مشکیزہ اس کی زکوۃ،یہ حدیث اس تیسرے قول کی دلیل ہے امام شافعی کا بھی پہلا قول یہی تھا۔
۲
؎یعنی محدثین کے نزدیک یہ صحیح نہیں۔خیال رہے کہ محدثین کی یہ جرح امام اعظم کو مضر نہیں کیونکہ یہ حدیث امام صاحب کو صحیح ملی تھی اس لیے کہ آپ کا زمانہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت قریب ہے،ان محدثین کو ضعیف ہوکر ملی،بعد کا ضعف امام صاحب کو مضر نہ ہوگا،نیز یہ حدیث بہت روایتوں سے مروی ہے۔چنانچہ ابن ماجہ نے حضرت عبداللہ ابن عمرو سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہد سے عشر وصول فرمایا ہے،بعض احادیث میں یوں ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں شہد کا عشر لیا جاتا تھا،ہدایہ نے حدیث یوں نقل کی کہ بنی شبابہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو شہد کا عشر دیتے تھے،تعدد اسناد کی وجہ سے متن حدیث قوی ہوگیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1807