Main Icon

باب: کس چیز میں زکوۃ واجب ہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1811

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- كَانَ يَأْمُرُنَا أَنْ نُخْرِجَ الصَّدَقَةَ مِنَ الَّذِي نُعِدُّ لِلْبَيْعِ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

وعن سمرة بن جندب أن رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم- كان يأمرنا أن نخرج الصدقة من الذي نعد للبيع. رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سمرہ ابن جندب سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو حکم دیتے تھے کہ اس مال کی زکوۃ دیں جو تجارت کے لیے رکھتے ہیں ۱؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱؎ یعنی سونے چاندی میں تو بہرحال زکوۃ ہے تجارت کے لیے ہو یا پہننے کے لیے یا کسی اور مقصد کے لیے مگر ان دونوں کے علاوہ دوسرے مالوں میں زکوۃ جب ہوگی کہ تجارت کے لیے ہوں اس قاعدہ کلیہ میں تمام مال داخل ہیں حتی کہ کپڑے،زمین،غلہ،جانور بھی۔خیال رہے کہ جانوروں میں سائمہ کی زکوۃ اور ہے تجارتی کی زکوۃ کچھ اور،سائمہ کی زکوۃ تو وہ ہے جو پہلے ذکر ہوئی کہ پانچ اونٹ میں ایک بکری،دس میں دو الخ،مگر تجارتی اونٹ میں قیمت اگر دو سو درہم تک پہنچے تو چالیسواں حصہ،اسی طرح پیداوار کی زکوۃ اور ہے مگر دانہ،پھلوں کی زکوۃ کچھ اور۔پیداوار کی زکوۃ بیان ہوچکی کہ تھوڑی یا بہت زکوۃ واجب ہے دسواں یا بیسواں حصہ مگر ان کی تجارتی زکوۃ چالیسواں حصہ ہوئی جب کہ دوسو درہم کو پہنچیں لہذا یہ حدیث گزشتہ احادیث کے خلاف نہیں کہ یہاں تجارتی زکوۃ مراد ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1811