Main Icon

باب: کس چیز میں زکوۃ واجب ہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1801

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "الْمُعْتَدِي فِي الصَّدَقَةِ كَمَانِعِهَا". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ.

وعن أنس قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "المعتدي في الصدقة كمانعها". رواه أبو داود والترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ زکوۃ میں حد سے تجاوز کرنے والا زکوۃ نہ دینے والے کی طرح ہے ۱؎ (ابوداؤد،ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎اس حدیث کے دو معنے ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ جو عامل زکوۃ وصول کرنے میں زیادتی کرے کہ یا زیادہ لے یا بہترین مال لے وہ ایسا ہی گنہگار ہے جیسے زکوۃ نہ دینے والا یا جو مالک زکوۃ دینے میں زیادتی کرے کہ یا تو کم دینے کی کوشش کرے یا ناقص یا ٹال مٹول کرے وہ ایسا ہی گنہگار ہے جیسے زکوۃ نہ دینے والا۔علماء فرماتے ہیں کہ زکوۃ خوشدلی سے دو،اسے عبادت سمجھو ٹیکس نہ سمجھو، مستحق کو دو،جان بوجھ کر غیرمستحق کو نہ دو،دے کر احسان نہ جتاؤ،اگر اپنے عزیزفقیر کو دی ہے تو اسے طعنہ نہ دو بلکہ اس کاذکر کھبی بھی نہ کرو کہ ان سے صدقہ باطل ہوجاتاہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"لَا تُبْطِلُوۡا صَدَقٰتِکُمۡ بِالْمَنِّ وَالۡاَذٰی"۔اور یہ سب حد سے بڑھنے میں داخل ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1801