Main Icon

باب: کس چیز میں زکوۃ واجب ہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1808

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللّٰهِ قَالَتْ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَقَالَ: "يَا مَعْشَر النِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ، وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ،فَإِنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ جَهَنَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعن زينب امرأة عبد الله قالت: خطبنا رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم- فقال: "يا معشر النساء تصدقن، ولو من حليكن،فإنكن أكثر أهل جهنم يوم القيامة". رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت زینب زوجہ عبد اللہ(ابن مسعود) سے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطاب کیا فرمایا کہ اے بیبیو خیرات دو اگرچہ اپنے زیور ہی سے ہو کیونکہ قیامت میں تم زیادہ دوزخی ہوگی ۱؎(ترمذی)۲؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی پہننے کے سونے چاندی کے زیور میں بھی زکوۃ واجب ہے،یہاں صدقہ سے مراد زکوۃ ہے جیساکہ اگلی حدیث میں صاف آرہا ہے۔خیال رہے کہ پہننے کے ان زیوروں پر امام اعظم کے ہاں زکوۃ واجب ہے،امام شافعی کے قول جدید میں اور امام احمد کے ہاں اس میں زکوۃ نہیں،یہ حدیث امام اعظم کی قوی دلیل ہے اس کا کچھ ذکر اگلی حدیث میں آرہا ہے۔
۲
؎مرقات نے فرمایا کہ اس حدیث کی اسناد بالکل صحیح ہے اور اس کے راوی سارے قوی،نیز اس کی تائید قرآن کریم کی اس آیت سے ہے
"
وَ الَّذِیْنَ یَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ"الایہ۔رب تعالٰی نے سونے چاندی میں تجارت کی قید نہ لگائی۔معلوم ہوا کہ پہننے کا زیوربھی اسی حکم میں داخل ہے لہذا سونے چاندی کے استعمالی زیور پر زکوۃ فرض ہے جب کہ ان کا وزن نصاب کو پہنچ جائے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1808