- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 3
- زکوۃ کا بیان
- حدیث نمبر 1799
باب: کس چیز میں زکوۃ واجب ہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1799
زکوۃ کا بیان - جلد 3
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ: "قَدْ عَفَوْتُ عَنِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ، فَهَاتُوا صَدَقَةَ الرِّقَةِ، مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمٌ، وَلَيْسَ فِي تِسْعِينَ وَمِئَةٍ شَيْءٌ، فَإِذَا بَلَغَتْ مِئَتَيْنِ فَفِيهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ. وَفِي رِوَايَةٍ لِأَبِي دَاوُدَ عَنِ الْحَارِثِ الأَعْوَرِ عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ زُهَيْرٌ: أَحْسَبُهُ عَنِ النَّبِيِّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- أَنَّهُ قَالَ: "هَاتُوا رُبع الْعُشْرِ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمٌ، وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ شَيْءٌ حَتَّى تَتِمَّ مِئَتَيْ دِرْهَمٍ، فَإِذَا كَانَتْ مِئَتَيْ دِرْهَمٍ فَفِيهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ، فَمَا زَادَ فَعَلَى حِسَابِ ذَلِكَ، وَفِي الْغَنَمِ فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ شَاةً شَاةٌ إِلَى عِشْرِينَ وَمِئَةٍ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةٌ فَشَاتَانِ إِلَى مِئَتَيْنِ،فَإِنْ زَادَتْ فَثَلَاثُ شِيَاهٍ إِلَى ثَلَاثِ مِئَةٍ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى ثَلَاثِ مِئَةٍ فَفِي كُلِّ مِئَةٍ شَاةٌ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ إِلَّا تِسْعٌ وَثَلَاثُونَ فَلَيْسَ عَلَيْكَ فِيهَا شَيْءٌ، وَفِي الْبقَرِ فِي كُلِّ ثَلَاثِينَ تَبِيعٌ، وَفِي الأَرْبَعِينَ مُسِنَّةٌ، وَلَيْسَ عَلَى الْعَوَامِلِ شَيْءٌ".
عن علي قال: قال رسول الله: "قد عفوت عن الخيل والرقيق، فهاتوا صدقة الرقة، من كل أربعين درهم، وليس في تسعين ومئة شيء، فإذا بلغت مئتين ففيها خمسة دراهم". رواه الترمذي وأبو داود. وفي رواية لأبي داود عن الحارث الأعور عن علي، قال زهير: أحسبه عن النبي -صلی اللہ عليه وسلم- أنه قال: "هاتوا ربع العشر من كل أربعين درهما درهم، وليس عليكم شيء حتى تتم مئتي درهم، فإذا كانت مئتي درهم ففيها خمسة دراهم، فما زاد فعلى حساب ذلك، وفي الغنم في كل أربعين شاة شاة إلى عشرين ومئة، فإن زادت واحدة فشاتان إلى مئتين،فإن زادت فثلاث شياه إلى ثلاث مئة، فإذا زادت على ثلاث مئة ففي كل مئة شاة، فإن لم تكن إلا تسع وثلاثون فليس عليك فيها شيء، وفي البقر في كل ثلاثين تبيع، وفي الأربعين مسنة، وليس على العوامل شيء".
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میں نے گھوڑے اور غلام کی زکوۃ کی تو معافی دے دی ۱؎ مگر چاندی کی زکوۃ دو ہر چالیس میں ایک درہم ہے اور ایک سونوے میں کچھ نہیں جب دوسو کو پہنچیں تو ان میں پانچ درہم ہیں ۲؎(ترمذی و ابوداؤد)اور ابوداؤد کی ایک روایت میں حضرت حارث ابن اعور سے ہے ۳؎ وہ حضرت علی سے راوی زہیر کہتے ہیں مجھے خیال ہے حضرت علی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۴؎ کہ آپ نے فرمایا کہ چالیسواں حصہ دو ہر چالیس درہم میں ایک درہم ہے اور تم پر کچھ نہیں حتی کہ دو سو درہم پورے ہوجائیں تو جب دو سو درہم ہوجائیں تو ان میں پانچ درہم میں جو اس پر زیادہ ہو تو اسی حساب پر ہے ۵؎ اور بکریاں میں ہر چالیس بکریوں میں ایک بکری ہے ۶؎ ایک سو بیس تک کہ اگر ایک زیادہ ہوجائے تو دو بکریاں دو سو تک اگر زیادہ ہوں تو تین بکریاں تین سو تک پھر اگر تین سو پر زیادہ ہوں تو ہرسینکڑے میں ایک بکری،اگر بکریاں انتالیس ہوں تو ان کا تم پر کچھ نہیں ۷؎ اور گایوں میں ہرتیس میں ایک سالہ بچہ ہے ۸؎ اور چالیس میں دو سالہ بچہ اور کام کاج کے جانوروں میں کچھ نہیں ۹؎
شرح حدیث
۱∞؎گھوڑے سے مراد سواری کا گھوڑا اور غلام سے خدمت کا غلام مراد ہے یہاں گھوڑا اور غلام مثالًا بیان فرمایا گیا ورنہ حاجت اصلیہ میں گھرے ہوئے کسی مال کی زکوۃ نہیں یعنی میں نے ان چیزوں کی زکوۃ معاف کردی یہاں مرقات میں ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم احکام شرعیہ کے مالک ہیں فرماتے ہیں کہ میں نے معاف کردی یعنی اگر چاہتا تو ان سب کی زکوۃ واجب کردیتا۔
۲؎حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ چاندی کا نصاب دوسو درہم یعنی ساڑھے باون تولہ ہے جس سے کم میں زکوۃ واجب نہیں،پھر دوسو کے بعد انتالیس درہم تک معافی چالیس پر ایک درہم اسی لیے فقہاء فرماتے ہیں کہ چاندی سونے کی زکوۃ میں دو نصابوں کے درمیان نصاب کے پانچویں حصہ سے کم معاف رہتا ہے اور پانچویں حصہ پر زکوۃ بڑھتی ہے۔چنانچہ ساڑھے سات تولہ سونے کے بعد ڈیڑھ تولہ سے کم میں معافی ہوگی اور ڈیڑھ تولہ پر زکوۃ بڑھے گی،چاندی میں ساڑھے باون تولہ کے بعد سوا دس تولہ تک معافی اور ساڑھے دس تولہ پر زکوۃ بڑھے گی۔
۳؎ان کا نام حارث ابن عبداللہ ہمدانی ہے،کنیت ابو زہیر ہے،تابعی ہیں۔مشہور یہ ہے کہ آپ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں میں سے ہیں،بعض محدثین نے آپ میں جرح کی ہے،آپ نے حضرت علی سے کل چار حدیثیں روایت کی ہیں۔(مرقات وغیرہ)
۴؎یعنی زہیر جو راویٔ حدیث ہیں وہ فرماتے ہیں کہ مجھے یقین نہیں بلکہ گمان ہے کہ یہ حدیث مرفوع ہے موقوف نہیں،حضرت علی کا خود اپنا قول نہیں ہے بلکہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔
۵؎اس کی شرح ابھی گزر چکی۔خیال رہے کہ چاندی کی زکوۃ میں سکہ رائج الوقت کا اعتبار نہیں بلکہ وزن ملحوظ ہے مگر تجارتی سامان کی زکوۃ میں سکہ رائج الوقت معتبر ہے کیونکہ چاندی میں خود اس پر زکوۃ ہے مگر تجارتی مال میں اس کی قیمت پر ہے لہذا دو سو درہم کا لفظ بہت وسیع ہے،چوری کی سزا میں بھی مسروقہ مال کی قیمت کا اعتبار ہے۔(مرقاۃ)اس حدیث کی بنا پر صاحبین فرماتے ہیں کہ دوسو درہم کے بعد ہر درہم پر زکوۃ واجب ہے کیونکہمَازَادَعام ہے مگر امام اعظم فرماتے ہیں کہ چالیس درہم سے کم میں زکوۃ نہیں،یہاںمَازَادَسے مراد چالیس درہم ہیں جیسا کہ اوپر کے جملہ سے معلوم ہوا اور دوسری احادیث نے اس کی تصریح فرما دی،نیز ابوداؤد کی اس دوسری حدیث کی اسناد میں حارث و عاصم ہیں ان دونوں پرمحدثین نے سخت جرح کی ہے لہذا یہ حدیث قابل سند نہیں۔غرضکہفَمَا زَادَ فَعَلٰی حِسَابِ ذٰلِكَکی عبارت مجروح ہے لہذا حق یہ ہی ہے کہ دوسو درہم کے بعد چالیس درہم سے کم پر زکوۃ نہ ہوگی۔
۶؎یہ جملہ بھی تمام احادیث صحیحہ کے خلاف ہے کیونکہ اس سے معلوم ہوتاہے کہ ہر چالیس بکریوں سے ایک بکری زکوۃ دی جائے تو ایک سوبیس میں تین بکریاں واجب ہوں،حالانکہ چالیس کے بعد ایک سو بیس تک زکوۃ نہیں بڑھتی۔مرقات نے فرمایا کہ لفظکُلْزائد ہے،بعض نے فرمایا کہ یہکُلْافرادی نہیں بلکہ بیان صنف کے لیے ہے یعنی بکری،بھیڑ دنبہ وغیرہ ان تمام میں چالیس پر زکوۃ ہے لہذا یہ آئندہ حدیث کے بھی خلاف نہیں اور دیگر احادیث کے بھی مخالف نہیں۔
۷؎اس کی شرح پہلے ہوچکی ہے۔خیال رہے کہ بکریوں کی زکوۃ میں بکری کا چھوٹا بچہ نہ دیا جائے گا بلکہ جوان بکری یا بکرا جسے بکری کہہ سکیں مگر اس میں اونٹ و گائے کی طرح عمر مقرر نہیں کہ اتنے سال یا اتنے ماہ کی بکری۔
۸؎یعنی تیس گائیوں میں یکسالہ بچھڑی یا بچھڑا واجب ہے۔یکسالہ بچھڑے کو تبیعہ اس لیے کہتے ہیں کہ اس وقت بچہ اپنی ماں کے تابع ہوتا ہے،اونٹ کی زکوۃ میں صرف مادہ ہی وصول کی جاتی ہے مگر گائے کی زکوۃ میں فرمایا وہ دونوں لیے جاسکتے ہیں کیونکہ بعض لحاظ سے مادہ اچھی ہے کہ نسل دیتی ہے اور بعض وجوہ سے نر اچھا کہ کھیتی باڑی میں کام آتا ہے۔
۹؎اسی طرح اگر اونٹ کام کاج کے لیے ہوں تو ان میں زکوۃ نہیں پھر علوفہ یعنی گھر چارہ کھانے والی میں زکوۃ نہیں۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1799