Main Icon

باب: کس چیز میں زکوۃ واجب ہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1799

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ: "قَدْ عَفَوْتُ عَنِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ، فَهَاتُوا صَدَقَةَ الرِّقَةِ، مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمٌ، وَلَيْسَ فِي تِسْعِينَ وَمِئَةٍ شَيْءٌ، فَإِذَا بَلَغَتْ مِئَتَيْنِ فَفِيهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ. وَفِي رِوَايَةٍ لِأَبِي دَاوُدَ عَنِ الْحَارِثِ الأَعْوَرِ عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ زُهَيْرٌ: أَحْسَبُهُ عَنِ النَّبِيِّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- أَنَّهُ قَالَ: "هَاتُوا رُبع الْعُشْرِ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمٌ، وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ شَيْءٌ حَتَّى تَتِمَّ مِئَتَيْ دِرْهَمٍ، فَإِذَا كَانَتْ مِئَتَيْ دِرْهَمٍ فَفِيهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ، فَمَا زَادَ فَعَلَى حِسَابِ ذَلِكَ، وَفِي الْغَنَمِ فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ شَاةً شَاةٌ إِلَى عِشْرِينَ وَمِئَةٍ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةٌ فَشَاتَانِ إِلَى مِئَتَيْنِ،فَإِنْ زَادَتْ فَثَلَاثُ شِيَاهٍ إِلَى ثَلَاثِ مِئَةٍ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى ثَلَاثِ مِئَةٍ فَفِي كُلِّ مِئَةٍ شَاةٌ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ إِلَّا تِسْعٌ وَثَلَاثُونَ فَلَيْسَ عَلَيْكَ فِيهَا شَيْءٌ، وَفِي الْبقَرِ فِي كُلِّ ثَلَاثِينَ تَبِيعٌ، وَفِي الأَرْبَعِينَ مُسِنَّةٌ، وَلَيْسَ عَلَى الْعَوَامِلِ شَيْءٌ".

عن علي قال: قال رسول الله: "قد عفوت عن الخيل والرقيق، فهاتوا صدقة الرقة، من كل أربعين درهم، وليس في تسعين ومئة شيء، فإذا بلغت مئتين ففيها خمسة دراهم". رواه الترمذي وأبو داود. وفي رواية لأبي داود عن الحارث الأعور عن علي، قال زهير: أحسبه عن النبي -صلی اللہ عليه وسلم- أنه قال: "هاتوا ربع العشر من كل أربعين درهما درهم، وليس عليكم شيء حتى تتم مئتي درهم، فإذا كانت مئتي درهم ففيها خمسة دراهم، فما زاد فعلى حساب ذلك، وفي الغنم في كل أربعين شاة شاة إلى عشرين ومئة، فإن زادت واحدة فشاتان إلى مئتين،فإن زادت فثلاث شياه إلى ثلاث مئة، فإذا زادت على ثلاث مئة ففي كل مئة شاة، فإن لم تكن إلا تسع وثلاثون فليس عليك فيها شيء، وفي البقر في كل ثلاثين تبيع، وفي الأربعين مسنة، وليس على العوامل شيء".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میں نے گھوڑے اور غلام کی زکوۃ کی تو معافی دے دی ۱؎ مگر چاندی کی زکوۃ دو ہر چالیس میں ایک درہم ہے اور ایک سونوے میں کچھ نہیں جب دوسو کو پہنچیں تو ان میں پانچ درہم ہیں ۲؎(ترمذی و ابوداؤد)اور ابوداؤد کی ایک روایت میں حضرت حارث ابن اعور سے ہے ۳؎ وہ حضرت علی سے راوی زہیر کہتے ہیں مجھے خیال ہے حضرت علی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۴؎ کہ آپ نے فرمایا کہ چالیسواں حصہ دو ہر چالیس درہم میں ایک درہم ہے اور تم پر کچھ نہیں حتی کہ دو سو درہم پورے ہوجائیں تو جب دو سو درہم ہوجائیں تو ان میں پانچ درہم میں جو اس پر زیادہ ہو تو اسی حساب پر ہے ۵؎ اور بکریاں میں ہر چالیس بکریوں میں ایک بکری ہے ۶؎ ایک سو بیس تک کہ اگر ایک زیادہ ہوجائے تو دو بکریاں دو سو تک اگر زیادہ ہوں تو تین بکریاں تین سو تک پھر اگر تین سو پر زیادہ ہوں تو ہرسینکڑے میں ایک بکری،اگر بکریاں انتالیس ہوں تو ان کا تم پر کچھ نہیں ۷؎ اور گایوں میں ہرتیس میں ایک سالہ بچہ ہے ۸؎ اور چالیس میں دو سالہ بچہ اور کام کاج کے جانوروں میں کچھ نہیں ۹؎

شرح حدیث

۱∞؎گھوڑے سے مراد سواری کا گھوڑا اور غلام سے خدمت کا غلام مراد ہے یہاں گھوڑا اور غلام مثالًا بیان فرمایا گیا ورنہ حاجت اصلیہ میں گھرے ہوئے کسی مال کی زکوۃ نہیں یعنی میں نے ان چیزوں کی زکوۃ معاف کردی یہاں مرقات میں ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم احکام شرعیہ کے مالک ہیں فرماتے ہیں کہ میں نے معاف کردی یعنی اگر چاہتا تو ان سب کی زکوۃ واجب کردیتا۔
۲
؎حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ چاندی کا نصاب دوسو درہم یعنی ساڑھے باون تولہ ہے جس سے کم میں زکوۃ واجب نہیں،پھر دوسو کے بعد انتالیس درہم تک معافی چالیس پر ایک درہم اسی لیے فقہاء فرماتے ہیں کہ چاندی سونے کی زکوۃ میں دو نصابوں کے درمیان نصاب کے پانچویں حصہ سے کم معاف رہتا ہے اور پانچویں حصہ پر زکوۃ بڑھتی ہے۔چنانچہ ساڑھے سات تولہ سونے کے بعد ڈیڑھ تولہ سے کم میں معافی ہوگی اور ڈیڑھ تولہ پر زکوۃ بڑھے گی،چاندی میں ساڑھے باون تولہ کے بعد سوا دس تولہ تک معافی اور ساڑھے دس تولہ پر زکوۃ بڑھے گی۔
۳
؎ان کا نام حارث ابن عبداللہ ہمدانی ہے،کنیت ابو زہیر ہے،تابعی ہیں۔مشہور یہ ہے کہ آپ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں میں سے ہیں،بعض محدثین نے آپ میں جرح کی ہے،آپ نے حضرت علی سے کل چار حدیثیں روایت کی ہیں۔(مرقات وغیرہ)
۴
؎یعنی زہیر جو راویٔ حدیث ہیں وہ فرماتے ہیں کہ مجھے یقین نہیں بلکہ گمان ہے کہ یہ حدیث مرفوع ہے موقوف نہیں،حضرت علی کا خود اپنا قول نہیں ہے بلکہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔
۵
؎اس کی شرح ابھی گزر چکی۔خیال رہے کہ چاندی کی زکوۃ میں سکہ رائج الوقت کا اعتبار نہیں بلکہ وزن ملحوظ ہے مگر تجارتی سامان کی زکوۃ میں سکہ رائج الوقت معتبر ہے کیونکہ چاندی میں خود اس پر زکوۃ ہے مگر تجارتی مال میں اس کی قیمت پر ہے لہذا دو سو درہم کا لفظ بہت وسیع ہے،چوری کی سزا میں بھی مسروقہ مال کی قیمت کا اعتبار ہے۔(مرقاۃ)اس حدیث کی بنا پر صاحبین فرماتے ہیں کہ دوسو درہم کے بعد ہر درہم پر زکوۃ واجب ہے کیونکہمَازَادَعام ہے مگر امام اعظم فرماتے ہیں کہ چالیس درہم سے کم میں زکوۃ نہیں،یہاںمَازَادَسے مراد چالیس درہم ہیں جیسا کہ اوپر کے جملہ سے معلوم ہوا اور دوسری احادیث نے اس کی تصریح فرما دی،نیز ابوداؤد کی اس دوسری حدیث کی اسناد میں حارث و عاصم ہیں ان دونوں پرمحدثین نے سخت جرح کی ہے لہذا یہ حدیث قابل سند نہیں۔غرضکہفَمَا زَادَ فَعَلٰی حِسَابِ ذٰلِكَکی عبارت مجروح ہے لہذا حق یہ ہی ہے کہ دوسو درہم کے بعد چالیس درہم سے کم پر زکوۃ نہ ہوگی۔
۶
؎یہ جملہ بھی تمام احادیث صحیحہ کے خلاف ہے کیونکہ اس سے معلوم ہوتاہے کہ ہر چالیس بکریوں سے ایک بکری زکوۃ دی جائے تو ایک سوبیس میں تین بکریاں واجب ہوں،حالانکہ چالیس کے بعد ایک سو بیس تک زکوۃ نہیں بڑھتی۔مرقات نے فرمایا کہ لفظکُلْزائد ہے،بعض نے فرمایا کہ یہکُلْافرادی نہیں بلکہ بیان صنف کے لیے ہے یعنی بکری،بھیڑ دنبہ وغیرہ ان تمام میں چالیس پر زکوۃ ہے لہذا یہ آئندہ حدیث کے بھی خلاف نہیں اور دیگر احادیث کے بھی مخالف نہیں۔
۷
؎اس کی شرح پہلے ہوچکی ہے۔خیال رہے کہ بکریوں کی زکوۃ میں بکری کا چھوٹا بچہ نہ دیا جائے گا بلکہ جوان بکری یا بکرا جسے بکری کہہ سکیں مگر اس میں اونٹ و گائے کی طرح عمر مقرر نہیں کہ اتنے سال یا اتنے ماہ کی بکری۔
۸
؎یعنی تیس گائیوں میں یکسالہ بچھڑی یا بچھڑا واجب ہے۔یکسالہ بچھڑے کو تبیعہ اس لیے کہتے ہیں کہ اس وقت بچہ اپنی ماں کے تابع ہوتا ہے،اونٹ کی زکوۃ میں صرف مادہ ہی وصول کی جاتی ہے مگر گائے کی زکوۃ میں فرمایا وہ دونوں لیے جاسکتے ہیں کیونکہ بعض لحاظ سے مادہ اچھی ہے کہ نسل دیتی ہے اور بعض وجوہ سے نر اچھا کہ کھیتی باڑی میں کام آتا ہے۔
۹
؎اسی طرح اگر اونٹ کام کاج کے لیے ہوں تو ان میں زکوۃ نہیں پھر علوفہ یعنی گھر چارہ کھانے والی میں زکوۃ نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1799