Main Icon

باب: کس چیز میں زکوۃ واجب ہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1810

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: كُنْتُ أَلْبَسُ أَوْضَاحًا مِنْ ذَهَبٍ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ أَكَنْزٌ هُوَ؟ فَقَالَ: "مَا بَلَغَ أَنْ تُؤَدَّى زَكَاتُهُ فَزُكِّيَ فَلَيْسَ بِكَنْزٍ". رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَبُوْ دَاوُدَ.

وعن أم سلمة قالت: كنت ألبس أوضاحا من ذهب، فقلت: يا رسول الله أكنز هو؟ فقال: "ما بلغ أن تؤدى زكاته فزكي فليس بكنز". رواه مالك وأبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں کہ میں سونے کے کنگن پہناکرتی تھی میں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا یہ بھی خزانہ کرنا ہے ۱؎ فرمایا جو وجوب زکوۃ کی حدکو پہنچے تو تم اس کی زکوۃ دیتی رہو تو خزانہ نہیں ۲؎(مالک وابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎خزانہ سے مراد وہ خزانہ ہے جس کی برائی قرآن کریم میں ہے"وَالَّذِیۡنَ یَکْنِزُوۡنَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّۃَ"الایہ۔ سوال یہ فرما رہی ہیں کہ اس سونے کی تجارت تو کرنا نہیں ہے صرف پہننے کے لیے ہے تو کیا یہ بھی اس آیت کریمہ کی زد میں آیا ہے،وہ سمجھی یہ تھیں کہ جیسے پہننے کےکپڑوں میں زکوۃ نہیں تو ہوسکتا ہے کہ پہننے کے زیور میں بھی نہ ہو،انہیں یہ خیال نہ رہا کہ کپڑا ضروریات زندگی کی چیز ہے زیور ایسا نہیں۔
۲
؎اس حدیث سے بھی ثابت ہوا کہ استعمالی زیور پر زکوۃ ہے یہ حدیث بالکل صحیح ہے۔میرک نے فرمایا کہ اس کے راوی امام بخاری کے شیوخ میں سے ہیں،اسے حاکم اور ابن قطان نے بھی نقل فرمایا ابن قطان نے فرمایا کہ یہ حدیث صحیح ہے۔ (مرقاۃ)مطلب یہ ہے کہ اگر زیور کی زکوۃ نہ دی جائے تو یہ بھی کنز میں داخل ہے جس پر قرآن کریم میں سخت وعید آئی اگر زکوۃ دی جائے تو کنز نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1810