Main Icon

باب: کس چیز میں زکوۃ واجب ہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1803

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ قَالَ: عِنْدَنَا كِتَابُ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ عَنِ النَّبِيِّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-، [أَنَّهُ] قَالَ: إِنَّمَا أَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ الصَّدَقَةَ مِنَ الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ. مُرْسَلٌ. رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ".

وعن موسى بن طلحة قال: عندنا كتاب معاذ بن جبل عن النبي -صلی اللہ عليه وسلم-، [أنه] قال: إنما أمره أن يأخذ الصدقة من الحنطة والشعير والزبيب والتمر. مرسل. رواه في "شرح السنة".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت موسٰی ابن طلحہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس حضرت معاذ ابن جبل کی کتاب ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طر ف سے ہے فرمایا کہ انہیں حضور نے یہ حکم دیا کہ وہ گیہوں،جو کشمش،کھجور سے زکوۃ لیں ۲؎(شرح سنہ)

شرح حدیث

۱؎ آپ کا نام موسٰی ابن طلحہ ابن عبداللہ ہے،تمیمی ہیں،قرشی ہیں،تابعی ہیں کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پیدا تو ہوئے مگر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نہ کرسکے،آپ کا نام موسیٰ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے رکھا،آپ کے والد طلحہ عشر ہ مبشرہ میں سے ہیں۔
۲؎ یہ حدیث ظاہری معنی سے امام اعظم کی دلیل ہوسکتی ہے کیونکہ اس میں ان چیزوں کا وزن مقرر نہ کیا گیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پیداوار میں مطلقًا زکوۃ واجب ہے کم ہو یا زیادہ۔اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ حضرت موسیٰ فرمارہے ہیں ہمارے پاس معاذ ابن جبل کی ہی مضمون کی کتاب بھی ہے اور ہمیں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ خبر بھی پہنچی ہے۔اس صورت میں یہ حدیث مرسل ہے کیونکہ تابعی نے بغیر ذکر صحابی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نقل کردی،اسی معنے کی بنا پر مصنف نے اسے مرسل فرمایا اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت معاذ کی وہ کتاب حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے هے یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کو حضرت معاذ نے لکھ لیاتھا،اس صورت میں یہ حدیث مرسل نہیں بلکہ متصل ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1803