Main Icon

باب :رکوع - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 886

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ النُّعْمَانِ بنِ مُرَّةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا تَرَوْنَ فِي الشَّارِبِ وَالزَّانِي وَالسَّارِقِ وَذٰلِكَ قَبْلَ أَنْ تُنْزَلَ فِيهِمُ الْحُدُودُ قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهٗ أَعْلَمُ. قَالَ: «هُنَّ فَوَاحِشُ وَفِيهِنَّ عُقُوبَةٌ وَأَسْوَأُ السَّرِقَةِ الَّذِي يَسْرِقُ مِنْ صَلَاتِهٖ» . قَالُوا: وَكَيف يَسْرِقُ مِنْ صَلَاتِهٖ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ: «لَا يُتِمُّ رُكُوعَها وَلَا سُجُودَها» . رَوَاهُ مَالِكٌ وَأحمَدُ وَرَوىٰ الدَارمِيْ نَحوَه

وعن النعمان بن مرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ما ترون في الشارب والزاني والسارق وذلك قبل أن تنزل فيهم الحدود قالوا: الله ورسوله أعلم. قال: «هن فواحش وفيهن عقوبة وأسوأ السرقة الذي يسرق من صلاته» . قالوا: وكيف يسرق من صلاته يا رسول الله ؟ قال: «لا يتم ركوعها ولا سجودها» . رواه مالك وأحمد وروى الدارمي نحوه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت نعمان ابن مرہ سے ۱؎نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم شرابی زانی اور چور کےمتعلق کیاسمجھتے ہو اور یہ سوال ان کی سزائیں اترنے سے پہلے تھا۲؎لوگ بولے الله ورسول جانیں فرمایا یہ گناہ کبیرہ ہیں ان میں سخت عذاب ہے اور بدترین چوری اس کی ہے جو اپنی نماز میں سے چرائے لوگوں نے عرض کیا یارسول الله نماز میں سے کیسے چرائے گا فرمایا کہ اس کا رکوع اورسجدہ پورا نہ کرے۳؎(مالک و احمد اور دارمی نے اس کی مثل)

شرح حدیث

۱∞؎آپ انصاری ہیں،رومی مدینی ہیں۔حق یہ ہے کہ تابعی ہیں جنہوں نے انہیں صحابی کہاغلطی کی لہذا یہ حدیث مرسل ہےکیونکہ صحابی کا ذکر چھوٹ گیا۔
۲
؎خیال رہے کہ چوری اور زنا ہمیشہ ہی سے حرام تھے مگر شراب شروع اسلام میں حلال تھی پھر عرصہ کے بعد آہستگی سے حرام ہوئی، حرمت کے کچھ عرصہ بعد اس پر اسی(۸۰)کوڑے سزا مقرر ہوئی، یونہی زنا اور چوری کی سزائیں بعد میں آئیں، یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب شراب حرام ہوچکی تھی لیکن ابھی اس کی سزا مقرر نہ ہوئی تھی۔
۳
؎یہ صحابی کا انتہائی ادب ہے کہ معلوم چیز کا بھی جواب نہیں دیتے۔ اس سےمعلوم ہواکہ حضورصلی الله علیہ وسلم کا ذکر خدا کے ساتھ کرنا اور دونوں ہستیوں کے لیے ایک ہی صیغہ لاناجائزہے، رب فرماتا ہے:"اَغْنٰہُمُ اللهُ وَرَسُوۡلُہٗ مِنۡ فَضْلِہٖ"لہذا یہ کہہ سکتے ہیں کہ الله و رسول بھلاکریں، الله رسول عزت ایمان دولت دیں۔
۳
؎یعنی اطمینان سے اداکرے۔ خیال رہے کہ نماز کے ہر رکن کو پوراکرنا چاہیے اورکسی رکن کو ناقص کرنے والا بدترین چور ہے مگر چونکہ رکوع سجدہ اہم ارکان تھے اس لیے خصوصیت سے ان کا ذکر فرمایا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 886