Main Icon

باب :رکوع - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 877

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي وَرَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهٗ مِنَ الرَّكْعَةِ قَالَ: «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» . فَقَالَ رَجُلٌ وَرَاءَهُ: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: «مَنِ الْمُتَكَلِّمُ آنِفًا» قَالَ: أَنَا. قَالَ: «رَأَيْتُ بِضْعَةً وَثَلَاثِينَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَكْتُبهَا أولُ» . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن رفاعة بن رافع قال: كنا نصلي وراء النبي صلى الله عليه وسلم فلما رفع رأسه من الركعة قال: «سمع الله لمن حمده» . فقال رجل وراءه: ربنا ولك الحمد حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه فلما انصرف قال: «من المتكلم آنفا» قال: أنا. قال: «رأيت بضعة وثلاثين ملكا يبتدرونها أيهم يكتبها أول» . رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہےحضرت رفاعہ ابن رافع سے ۱؎فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی الله علیہ وسلم کے پیچھےنماز پڑھ رہے تھے ۲؎جب آپ نے اپنا سر رکوع سے اٹھایا تو فرمایا الله اپنے حمد کرنے والے کی سنتا ہے تو آپ کے پیچھے ایک شخص نے کہا اے ہمارے رب تیرے ہی لیے حمدہے بہت طیب برکت والی حمد جب فارغ ہوئے تو فرمایا کہ ابھی کس نے یہ کلمات کہے ۳؎وہ بولا میں نے آپ نے فرمایا کہ میں نے چند اورتیس فرشتوں کو دیکھا کہ ان میں جلدی کررہے کہ پہلے کون لکھے۴؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ انصاری بدری صحابی ہیں،آپ کے والد نقیب الانصار تھے،آپ کی وفات ۴۱ھ میں ہوئی۔۲؎غالبًا نماز پنجگانہ میں سے کوئی نمازتھی کیونکہ جماعت کا اہتمام انہی نمازوں میں ہوتا تھا۔ نماز تہجد کی اگرچہ کبھی جماعت ہوئی ہے مگر بغیر اہتمام کے۔
۳
؎معلوم ہوا کہ نبی صلی الله علیہ وسلم بحالت نماز جیسےصحابہ کرام اور فرشتوں کے حالات دیکھ لیتے تھے ایسے ہی ان کے کلمات بھی سن لیتےتھے اور یہ سننا اور دیکھنانماز کے خضوع وخشوع میں خلل نہ ڈالتا تھاکیونکہ وہ قلب قدرت نے بنایا ہی ایسا تھا کہ بیک وقت خالق کی بھی سنیں مخلوق کی بھی،خالق سے لیتا رہے مخلوق کو دیتا رہے ایک کی توجہ دوسرے سے غافل نہ کردے آپ کا تو یہ حال تھا؎ادھر الله سے واصل ادھر مخلوق میں شاغل
خواص اس برزخ کبریٰ میں ہے حرف مشدد کا
ممکن ہے کہ وہ صاحب آخر صف میں ہوں مگرحضورصلی الله علیہ وسلم نے ان کی آہستہ آوازبھی سن لی،حضرت سلیمان علیہ السلام نےتین میل سے چیونٹی کی آوازسنی تھی۔
۴
؎یعنی ہر فرشتہ یہ چاہتا تھا کہ پہلے میں لکھ کر بارگاہ الٰہی میں پیش کردوں تاکہ مجھے قرب الٰہی زیادہ نصیب ہو۔خیال رہے کہ یہ فرشتے نامۂ اعمال لکھنے والوں کے علاوہ ہیں ورنہ کاتب اعمال صرف دو ہی ہیں،ایک نیکی لکھنے والا اور ایک گناہ،ان کی یہ جلدی ان کلمات کی کرامت کے اظہار کےلیےہے ورنہ فرشتوں کو سب کچھ لکھنے میں ایک سیکنڈبھی نہیں لگتا۔اس حدیث سےمعلوم ہورہا ہے کہ فرشتوں کو بعض نیکیاں لے جانے پرخصوصی انعام ملتے ہیں۔یہ بھی معلوم ہوا کہ فرائض کے قومے میں یہ کلمات کہنا جائزہیں۔یاد رہے کہ حضورصلی الله علیہ وسلم کا یہ پوچھنا کہ کس نے یہ کہا اپنے علم کے لیےنہیں بلکہ لوگوں پر ظاہرکرنے کے لیےہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 877