Main Icon

باب :رکوع - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 878

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي مَسْعُودِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «لَا تُجْزِئُ صَلَاةُ الرَّجُلِ حَتّٰى يُقِيمَ ظَهْرَهٗ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ».رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيْ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَارمِيْ وَقَالَ التِّرْمِذِيْ: هٰذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

عن أبي مسعود الأنصاري قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «لا تجزئ صلاة الرجل حتى يقيم ظهره في الركوع والسجود».رواه أبو داود والترمذي والنسائي وابن ماجه والدارمي وقال الترمذي: هذا حديث حسن صحيح

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابومسعود انصاری سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نےکہ انسان کی نماز درست نہیں ہوتی حتی کہ رکوع اورسجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی کرے ۲؎(ابوداؤد،ترمذی،نسائی،ابن ماجہ،دارمی)اور ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام عقبہ ابن عمرو ابن ثعلبہ ہے،دوسری بیعت عقبہ میں شریک تھے،کوفہ میں قیام رہا،۴۱∞ ھ یا۴۲ ھ میں وفات پائی۔
۲
؎امام شافعی کے ہاں تعدیل ارکان یعنی نمازکو اطمینان سے ادا کرنا فرض ہے جس کے بغیر نماز مطلقًانہیں ہوتی،ہمارے ہاں واجب ہے۔یہ حدیث ان کی دلیل ہے ان کے ہاں اس کے یہ معنی ہیں کہ رکوع سجدے میں اطمینان کے بغیر نماز درست نہیں، ہمارے ہاں اس کے یہ معنی ہیں کہ اس کے بغیر نماز کامل نہیں بہت ناقص ہے،واجب الاعادہ ہے۔اس کی بحث پہلے ہوچکی۔ یہاں اگرچہ رکوع سجدے کا ذکر ہے مگر مراد سارے ارکان ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 878